Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا

افطار و سحر کے لئے گولوں کی گونج و گرج

share with us

از: ڈاکٹر مفتی عرفان عالم قاسمی

رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ عنقریب سایہ فگن ہونے والا ہے۔ اللہ رب العزت ہمارے شعبان المعظم کے بقیہ ایام میں برکت عطا فرمائے اور ہمیں ساتھ خیریت کے رمضان المبارک میں پہنچا کر اس ماہ کی برکات و حسنات سے مستفیض فرمائے۔ صوم کے لغوی معنی ہے الامساک رکنے کے۔ اصطلاح شرع میں صوم کہتے ہیں کھانے پینے اور شہوت سے رکنے کو طلوع فجر سے غروب آفتاب تک۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ’’وَکُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِ‘‘ اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ فجر میں سے تمہارے لئے سفید دھاگہ کالے دھاگے سے واضح ہوجائے۔ پھر رات تک روزہ مکمل کرو۔ حضرت عمر خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلّٰی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اذا اقبل اللیل من ہہنا وادبر النہار من ہہنا و غربت الشمس فافطر الصائم۔ (جب رات وہاں (سورج غروب ہونے والی جگہ) سے چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزہ دار روزہ کھول لے۔ (صحیح البخاری 1954، صحیح مسلم حدیث: 1100)
سہل ابن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلّٰی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (لایزالو الناس یخیر ما عجلو الفطر) لوگ ہمیشہ خیر و خوبی سے رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔ (صحیح البخاری ص: 672 ۔ ج: 2 حدیث 1916، صحیح مسلم حدیث: 1098) سورج غروب ہونے کے بعد روزہ افطار کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ آنحضرت صلّٰی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہیکہ میری امت خیر پر رہے گی جب تک سحری کھانے میں تاخیر اور سورج غروب ہونے کے بعد) روزہ افطار کرنے میں جلدی کرتی رہے گے۔ (مسند احمد ص: 772، ج: 5) ایک حدیث میں ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مجھے اپنے بندوں میں سے وہ لوگ زیادہ محبوب ہیں جو افطار میں جلدی کرتے ہیں۔ (ترمذی، مشکوٰۃ ص: 175) ایک حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلّٰی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لا یزال الدین ظاہراً ما عجل الناس الفطر لان الیہود والنصاریٰ یؤخرون) جب تک لوگ افطاری میں جلدی کرتے رہیں گے۔ دین واضح اور غالب رہے گا۔ کیوں کہ یہودی اور عیسائی افطار میں دیر کرتے ہیں۔ (سنن ابوداؤد حدیث: 2350)
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلّٰی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم گروہ انبیاء علیہم السلام کو حکم دیا گیا ہے کہ ہم سحری تاخیر سے اور افطاری جلدی سے کریں۔ (ابن حبان الصحیح: 675، رقم 1770) سحری میں تاخیر اور افطاری میں جلدی کرنا سنت مؤکدہ ہے۔ حضور اکرم صلّٰی اللہ علیہ وسلم کا عمر بھر یہ معمول رہا ہے کہ آپ صلّٰی اللہ علیہ وسلم سحری میں تاخیر اور افطاری جلدی فرماتے۔
حضرت عبداللہ بن اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سفر میں رسول اللہ صلّٰی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب سورج غروب ہوگیا تو آپ صلّٰی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا اے فلاں! اٹھو اور ہمارے لئے ستو گھولو، عرض گزار ہوا یا رسول اللہ! شام ہونے دیجئے، فرمایا اترو ہمارے لئے ستو گھولو، عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللہ! شام تو ہوجائے۔ فرمایا اترو ہمارے لئے ستو گھولو، عرض گزار ہوا کہ ابھی تو دن ہے۔ فرمایا کہ اترو اور ہمارے لئے ستو بناؤ۔ پس وہ اترا اور آپ کے لئے ستو بنایا پس نبی کریم صلّٰی اللہ علیہ وسلم نے ستو نوش فرمائے پھر فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات ادھر سے آرہی ہے تو روزہ دار روزہ افطار کرے۔ (صحیح البخاری ص: 691، ج: 2 رقم 1854)روزہ افطار کرنے کا وقت غروب آفتاب ہے جونہی غروب آفتاب ہو روزہ افطار کر لینا چاہیے۔ ثابت بنانی حضرت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلّٰی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے سے پہلے تر کھجوروں کے ساتھ روزہ افطار فرماتے، اگر ایسا نہ ہوتا تو خشک کھجوروں سے۔ یہ بھی نہ ہوتا تو پانی کے چند گھونٹ پی لیا کرتے۔ (احمد ابن حبنل المسند ص:306، ج:2، رقم 12698، ابی داؤد السنن ص:306 رقم: 2356) جو لوگ افطار میں جلدی کرنے کی بجائے دیر کرتے ہیں اور تمام مسلمانوں کی مخالفت کرتے ہیں، رسول اللہ صلّٰی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی روشنی میں ان لوگوں کے بارے میں کم از کم یہ بات تو یقینی ہوجاتی ہے کہ وہ ہرگز خیر پر نہں ہیں اور یہاں معاملہ فقہ کے اختلاف کا نہیں بلکہ عقیدے کے فساد کا ہے، کیوں کہ افطار میں جلدی کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اس طرز افطاری سے یہود و نصاریٰ کی مخالفت مقصود ہے، کیوں کہ یہود و نصاریٰ روزہ تاخیر سے افطار کرتے ہیں۔ ستاروں کے ظاہر ہونے تک انتظار کرتے ہیں جس سے ستارہ پرستی کا شائبہ پیدا ہوتا ہے۔ جبتک امت مسلمہ افطار میں جلدی اور سحر میں تاخیر کرتی رہے گی اس وقت تک سنت کی پابندی اور حدود شرع کی نگرانی کی وجہ سے خیریت اور بھلائی پر قائم رہے گی۔ سحری کا وقت صبح صادق سے پہلے ہے اور افطاری کا وقت رات آنے سے پہلے ہے۔ غروب آفتاب سے رات شروع ہوجاتی ہے اور صبح صادق سے دن شروع ہوجاتا ہے اور روزہ دن کے وقت رکھا جاتا ہے۔لیکن یہ ضروری ہے کہ سورج کے غروب ہوجانے کا یقین ہوجائے تب روزہ کھولنا چاہئے۔ ہمارے شہر بھوپال میں گولہ چھوٹنے پر افطار کیا جاتا ہے۔ گزشتہ رمضان میں دو تین مرتبہ ایسا ہوا کہ لوگوں نے وقت سے پہلے روزہ افطار کر لیا۔ آج کے اس ڈیجیٹل اور الیکٹرانکس کی بے پناہ ترقی کے باوجود ایسی غلطیاں کرنا چہ معنی دارد۔ شہر کے چند معزز حضرات نے پچھلے سال مجھے فون لگا کر یہ بات کہی کہ مفتی صاحب گولے کی اس روایت کو ختم کرنا چاہئے، اس کی جگہ سائرن یا اذان پر افطار کرنا چاہئے۔ شہر بھوپال میں گولہ داغنے کی روایت نوابی دور کی دین معلوم ہوتی ہے۔ کیوں کہ نوابی دور میں افطار و سحر کے لئے توپ کے گولے داغے جاتے تھے اور افطار و سحر کے لئے توپ کی روایت نہایت قدیم ہے۔ مصری ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر عبدالرحیم ریحان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ توپ کے گولے چھوٹنے پر سحر و افطار کا آغاز سب سے پہلے قاہرہ میں 1637ء میں ہوا۔ یعنی آج سے چھ سو سال پہلے قاہرہ پہلا شہر تھا جس نے ماہ رمضان میں دوران غروب آفتاب یعنی افطاری اور سحری کے اوقات میں توپ استعمال کرنا شروع کی۔ ماہ صیام کا اعلان اور عید کا چاند نظر آنے کے بعد اس کے اعلان کے لئے توپ کا استعمال 1455ء بمطابق 859 ہجری میں ملتا ہے۔ یہ ممالک فرمانروا خوش قدم کا دور تھا۔ مصری فرمانروا کو یہ توپ جرمنی کے ایک کار خانہ دار کی جانب سے تحفے میں پیش کی گئی تھی۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ توپ قاہرہ پہنچانے جانے کا وقت غروب آفتاب ہی تھا جب گولا داغا گیا تو اس کا مقصد غروب آفتاب یا افطار کا اعلان مقصود نہیں تھا مگر عام لوگوں نے افطار کے اعلان کے طور پر سمجھا۔ اگلے روز شہریوں نے قاہرہ کے گورنر کا شکریہ ادا کیا۔ مصری ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر علی احمد طائش کا کہنا ہے کہ قاہرہ کے گورنر نے توپ کو افطاری اور سحری کے اوقات کے تعین کے لئے استعمال میں لانے کا باقاعدہ اعلان کیا۔ جس کے بعد صدیوں تک رمضان میں توپ کا باقاعدگی سے نہ صرف رمضان المبارک اور عیدالفطر کے اعلان کے لئے بھی توپ استعمال کی جاتی۔ ڈاکٹر ریحان نے مزید بتایا کہ تاریخی مصادر سے پتہ چلتا ہے کہ قاہرہ میں 859ء میں لائی گئی توپ کو اس وقت کے گورنر خوش قدم نے ایک گولہ داغے جانے کے بعد بند کر دیا تو شہر کے علماء اور سرکردہ شخصیات سلطان سے اپیل کی کہ وہ توپ کو باقاعدگی کے ساتھ چلایا جائے تاکہ سحر و افطار کے لئے سہولت میسر ہو۔ خوش قدم اس پر راضی نہ ہوا، انہوں نے یہ مطالبہ ملکہ الحاجہ فاطمہ کے سامنے رکھا اور ان سے کہا کہ وہ خوش قدم کو قائل کریں، الحاجہ فاطمہ نے اپنے شوہر کو سحر و افطار کے لئے توپ کے استعمال پر قائل کر لیا جس کے بعد آج تک رمضان توپ کا نام الحاجہ فاطمہ توپ ہی مشہور رہا ہے۔ ڈاکٹر ریحان مزید تاریخی حوالوں سے فرماتے ہیں کہ والی مصر محمد علی الکبیر نے مصری فوج کے لئے کئی توپیں خرید لی تھیں۔ ایک توپ کو ماہ صیام کے دوران تیار کیا جارہا تھا کہ اس کا ایک گولہ افطار کے وقت داغا گیا تو یہ افطار کی ایک علامت بن گیا، اس کے باقاعدگی سے توپ کو سحری و افطاری کے اعلان کے لئے استعمال کیا جاتا رہا۔ مصری ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ قاہرہ میں چار مقامات پر چھ توپیں نصب تھیں، ان میں دو قاہرہ قلعہ اور دو العباسیہ میں، جبکہ نیو مصر حلوان میں ایک ایک توپ نصب تھی، ان توپوں سے ماہ صیام، عیدالفطر ، سحری اور افطاری کے اوقات میں گولے داغے جاتے۔ کچھ عرصہ تک مصر میں رمضان توپوں کو بند بھی کیا گیا۔مگر 1985ء میں اس وقت کے مصری وزیر داخلہ قلعہ صلاح الدین میں رمضان توپ نصب کرنے کا حکم دیا یہ توپ آج بھی المعظم کی چوٹی پر نصب ہے۔ دیگر چار توپیں بھی قاہرہ کے مختلف مقامات پر موجود ہیں جن سے سحر و افطار کے اوقات میں گولے داغے جاتے ہیں۔
رمضان المبارک میں توپ کے گولوں کی گھن گرج سے تقریباً پوری عرب دنیا میں وقت افطار کا اظہار ہوتا ہے۔ چٹانی پہاڑوں اور پھیلے صحراؤں کے بیچ و بیچ دور و نزدیک بکھرے عرب قبیلوں کے لئے اعلان افطار کی یہ سہولت پچھلی کئی صدیوں سے چلی آرہی ہے اور آج ڈیجیٹل اور الیکٹرانکس کی بے پناہ ترقی کے باوجود توپ و تفنگ سے لیس یہ عرب روایت جاری و ساری ہے۔ مؤرخین اسے رمضان کی آمد کے ساتھ ہی مسلمانوں کے آنگن میں اترنے والی شادمانی کے اظہار کے ساتھ ساتھ ان کے اجتماعی رعب و دبدبے کی علامت بھی قرار دیتے ہیں۔ عرب تمدن اور ثقافت میں اہم درجہ پاجانے والی یہ روایت جدید سہولتوں کے فراہم ہوجانے کے بعد اگرچہ اپنے ابتدائی برسوں کے مقاصد پورے تو نہیں کرتی لیکن ایک یادگار علامت کے طور پر آج بھی مکہ کی پہاڑیوں سے لیکر خلیجی ممالک اور افریقی سرحدوں تک موجود ہے۔ جدید مکہ میں مدینہ کی پہاڑی پر نصب کی گئی توپ مکہ کی قدیم روایت اور ترقی کا حسین امتزاج ہے۔ سعودی ادارہ برائے سفارتی مطالعہ جات میں عرب کی جدید تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر محمد فولڈی کا کہنا ہے کہ پرانے وقتوں میں توپ کے گولے فائر کرنے کا طریقہ بوقت افطار اس لئے رائج کیا گیا کہ تب کلائیوں پر گھڑیاں اور گھروں میں گھڑیاں تھے نہ ہی آواز بڑھانے والے جدید آلات میسر تھے۔ سحر سے غروب آفتاب تک روزہ رکھنے والوں نمازوں کے بلانے کی خاطر مکہ کے مؤذن چار میناروں سے اذان کی آواز چاروں سمت میں پھیلتی ، سورج غروب ہوتے ہی ہمارے شہر بھوپال میں بھی جو مسجدوں کا شہر ہے ہر مسجد سے اللہ اکبر کی صدا بلند ہو تو کیا خوب سماعت ہوگی اور فقہی نکتہ نظر سے اس کی گنجائش بھی ہے کہ اذان کے دس منٹ بعد نماز ہو۔ اسی طرح تضیع مال کا بھی قلع قمع ہوگا۔ بہر حال اس عمل پر سنجیدگی سے غور و خوض کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہر طرح کے جدید آلات کے رہتے ہوئے پٹاخے پر ایک خطیر رقم صرف کرنا کہاں تک بہتر ہے؟

مضمون نگارکی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 
16؍ مئی 2018
ادارہ فکروخبر بھٹکل 

متعلقہ مضامین

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا