امریکا نے اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کی تحقیقات کرنے کی قرارداد ویٹو کردی

share with us

سان فرانسسکو:15؍مئی2018(فکروخبر/ذرائع)  اقوام متحدہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کی تحقیقات کے لیے پیش کی گئی قرارداد کو امریکا نے ویٹو کردیا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق فلسطین میں اسرائیلی فوج کی جارحیت اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی پر کویت کی درخواست پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا جہاں معصوم شہریوں کے قتل عام کی تحقیقات کے لیے پیش کی گئی قرار داد کو امریکا نے اپنی ویٹو پاور استعمال کرتے ہوئے بلاک کردیا۔ امریکا نے فلسطین میں حالات کی خرابی کا ذمہ دار حماس کو ٹھہرانے کا مضحکہ خیز موقف اختیار کیا۔

اقوام متحدہ اور ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا اظہار تشویش 

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے فلسطینیوں کی شہادتوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جارحیت اور خون خرابے کو اب ختم ہو جانا چاہیے۔ فلسطین میں بنیادی انسانی حقوق کو یقینی بنایا جائے اور ہر قسم کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے ڈھونڈ لینا چاہیئے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اسرائیلی مظالم کو بین الاقوامی امن کے خلاف خطرناک سازش قرار دیا ہے۔

 

یورپی یونین اور عالمی قوتوں کا رد عمل 

ترکی نے اسرائیل کو دہشت گرد ملک قرار دیتے ہوئے امریکا اور اسرائیل سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے۔ اسی طرح جنوبی افریقہ نے بھی اپنا سفیر اسرائیل سے فوری طور پر واپس بلالیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے بھی امریکی فیصلوں کومشرق وسطی میں قیام امن کےراستےمیں رکاوٹ قرار دیا ہے۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کی نگران فیدیریکا موگیرینی نے بھی تنازعے کے پُر امن حل پر زور دیا ہے۔

واضح رہے گزشتہ روز امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی کے عمل کو یوم سقوط فلسطین قرار دیتے ہوئے فلسطینیوں نے غزہ کی سرحد پر مظاہرے کیے۔ احتجاج کے دوران اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے کم از کم 58 فلسطینی شہید اور تین ہزار کے قریب زخمی ہیں۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا