نگروٹہ معاملہ میں پی ایم مودی کی خاموشی پر کانگریس نے اٹھائے سوال

share with us

سری نگر:15؍مئی2018(فکروخبر/ذرائع) جموں و کشمیرکے اسمبلی اسپیکر نرمل سنگھ نے نگروٹہ میں ایمونیشن ڈیپو کے نزدیک خریدی گئی زمین پر فوج کی طرف سے اعتراضات کے باوجود بھی تعمیرات کا کام جاری رکھا ہے جموں و کشمیرکے اسمبلی اسپیکر نرمل سنگھ نے نگروٹہ میں ایمونیشن ڈیپو کے نزدیک خریدی گئی زمین پر فوج کی طرف سے اعتراضات کے باوجود بھی تعمیرات کا کام جاری رکھا ہے۔ ذرائع کے مطابق نرمل سنگھ کی اہلیہ ممتا سنگھ کی سرپرستی میں تعمیر کا کام جاری ہے۔اس اراضی پر فوج نے سخت اعتراضات پیش کیے تھے اور کہا تھا کہ فوجی ایمونیشن ڈیپو کے نزدیک تعمیرات کرنا قوانین کے خلاف ہے۔ ڈپٹی کمشنر جموں نے بھی ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں بتایا گیا کہ فوجی تنصیبات کے نزدیک کوئی بھی تعمیر غیر قانونی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ فوج نے اس کے خلاف عدالت کے رجوع کیا ہے اور اس زمین میں تعمیرات پر اسٹے کی لیے عرضی دائر کی ہے، جس کی سماعت 21 مارچ کو ہوگی۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا ہے کہ اس معاملے کی سنجیدگی سے پارٹی کی امیج کو خطرہ ہوسکتا ہے۔پارٹی کے ترجمان اعلیٰ سنیل سیٹھی نے بتایا: 'عام طور پر پارٹی ذاتی معاملات میں دخل نہیں دیتی ہے، یہ نرمل سنگھ کا ذاتی معاملہ ہے اور انہیں اس کو حل کرنا چاہئے، لیکن جس طرح اس معاملے کی نوعیت بن رہی ہے یہ پارٹی کے لیے تقصاندہ ہوسکتی ہے'۔نرمل سنگھ کو فوج کی طرف سے اس زمین پر کام بند کرنے کے لیے نوٹس بھی جاری کیا گیا، لیکن ان کی اہلیہ نے اس زمین میں کام کاج جاری رکھا ہے۔ اس سے قبل نرمل سنگھ نے کہا تھا کہ یہ ان کے خلاف سیاسی سازش ہے۔دوسری طرف کانگریس نے وزیراعظم نریندرمودی سے نگروٹہ معاملے پر خاموشی اختیار کرنے پر سوالات کھڑے کردئے ہیں۔کانگریس نے بھارتیہ جنتا پارٹی سے سوال کیا ہے کہ پارٹی کے رہنما، جموں و کشمیر اسمبلی اسپیکر نرمل سنگھ، نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا اور جموں پونچھ پارلیمانی نشست کے ممبر جوگل کشورعہدوں سے مستعفی کیوں نیہں ہوجاتے۔انہوں نے کہا کہ تینوں رہنما اس زمین کے شراکت دار ہیں جو ہمگری انفراسٹرکچر پرائیوٹ لمیٹڈ کے ذریعے خریدی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تینوں رہنماؤں نے فوج کی 16 کورپس کے کمانڈر کی بے عزتی کی ہے۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا