تلنگانہ: وقف بورڈکی 100 کروڑ کی اراضی صرف 35 لاکھ میں کی گئی فروخت ،وقف بورڈ نےسی آئی ڈی جانچ کا کیا مطالبہ

share with us

حیدرآباد:14؍مئی2018(فکروخبر/ذرائع)تلنگانہ کی دارالحکومت حیدرآباد کے مالکا جگیری علاقے میں وقف کی پانچ ایکڑ آراضی جس کی عام قیمت 100 کروڑ روپے ہے اسے محض 35 لاکھ میں فروخت کر دیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق اس ارضی کی ڈیل مئی 2017 میں ہو گئی تھی لیکن وقف بورڈ کے افسران نے اسے خفیہ رکھا تھا۔اس سلسلےمیں تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ نے ریاستی حکومت کو ایک خط لکھ کر سی آئی ڈی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔معاملہ کے منظر عام پر آنے کے بعد اسوقت کے چیف ایکزیکیٹو آفیسر منان فاروقی نے اپنی دستخط سے این او سی کی  اجرا سے انکار کیا جس کے بعد معاملہ پولیس سے رجوع کیا گیا۔ حکومت کے مشیر برائے اقلیتی اُمور اے کے خان نے بتایا کہ درگاہ حضرت میر محمود پہاڑی کے تحت موجود اس اوقافی اراضی کے این او سی کی تحقیقات پہلے سے چل رہی ہے لہذا انہوں نے کمشنر پولیس انجنی کمار سے رابطہ قائم کرتے ہوئےفوری رپورٹ پیش کرنے کی توقع ظاہر کی۔وقف بورڈ کے صدر محمد سلیم نے چیف منسٹر کے سکریٹری بھوپال ریڈی کو اس معاملے سے واقف کرادیا ہے۔ چیف منسٹر کے دفتر نے  معاملے کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی تفتیش کا حکم دے دیا ہے۔ مسٹر اے کے خان نے کہا کہ جو کوئی بھی قصور وار پایا جائے خواہ وہ کسی بھی عہدے پر  فائز کیوں نہ ہوں اُن کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی آراضی کو غیر اوقافی قرار دیتے ہوئے این او سی جاری کرنا سنگین جرم ہے۔ وقف بورڈ کے صدر نے اس سلسلے میں میٹںگ طلب کی ہےجس میں سبھی عملہ کی شرکت کو ضروری قرار دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق منان فاروقی ان دنوں امریکہ میں ہیں وہ میٹنگ میں شامل نہیں ہو سکیں گے۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا