اورنگ آباد میں گروہی تصادم کے بعد فساد ، دوافراد کی موت ، پچاس زخمی ، 

share with us

تیس سے پینتیس دکانیں جل کر راکھ ، کروڑوں کی املاک کا نقصان 

اورنگ آباد 13؍ مئی 2018(فکروخبر /اورنگ آباد ٹائمس) شہر اورنگ آبادمیں جمعہ کی رات گروہی تصادم کے بعد بھڑکے تشدد میں دو افراد کی موت اور پچاس کے قریب افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ مہلوکین میں چودہ سالہ عبدالحارث بھی شامل ہے جو پولیس کی جانب سے کی گئی فائرنگ کے نتیجہ میں ہلاک ہوگیااس کے ساتھ ۷۲ سالہ جگنات کی موت واقع ہوگئی۔ دیر رات گئے سے راجہ بازار ، گاندھی ، نگر ، شاہ گنج میں شدید سنگباری اور آتشزنی کا سلسلہ صبح تک جاری رہا۔ پولیس نے نواب پورہ کی کالی مسجد علاقہ سے بیس تا پچیس نوجوانوں سمیت مختلف علاقوں سے سو افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کی جانب سے کی گئی مسلسل کوششوں کے بعد صبح گیارہ بجے صورتحال پر قابو پالیا گیا ۔ شہر میں انٹرنیٹ خدمات بند کردی گئیں ہیں اور دفعہ 144نافذ کیا گیا ہے۔ موتی کارنجہ ، گاندھی نگر میں والمیک سماج کے ایک شخص کی کولر کی دکان پر جالنہ کے ایک مسلم شخص کولر خریدنے کے لیے مول بھاؤ میں مصرو ف تھے۔ انہو ں نے اپنی کار کو لیکر دکان کے سامنے کھڑی کردی تھی ، عصر کی اذان سن کر جالنہ کے شخص مسجد کے لیے نکل پڑے لیکن والمیک سماج کا کولر دکاندار بدتمیزی پر اتر آیا اور ترش لہجے میں کار ہٹانے کا حکم دیا۔ ان کے ساتھ ایک نوجوان لڑکا تھا جس نے دکاندار کو تمیز سے بابت کرنے کے لیے کہا۔ تب کولر دکاندار نے مولانا کے ساتھ ہاتھا پائی شروع کی۔ نل کنکشن منقطع کیے جانے کے باعث یہاں دو پولیس اہلکاروں کو تعیینات کیا گیا تھا جن سے جالنہ کے شخص نے مارپیٹ کی شکایت کی ۔ پولیس اہلکار جب دکاندارسے باز پرس کرنے پہنچے تب والمیک سماج کے دکاندار نے ان سے تلخ لہجے میں بات کی، تب پولیس اہلکاروں نے مولانا کو پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروانے کا مشورہ دیا لیکن وہ شخص جالنہ کے لیے روانہ ہوگیا۔ رات ساڑھے نوبجے والمیک سماج کا ایک غنڈہ راستہ پار کررہی مسلم دوشیزہ سے چھیڑ خانی کرنے لگا ۔ یہ دیکھ کر ٹو وھیلر میکانک اپو استاد نے روکا تب غنڈے نے چاقو سے وار کرکے اپو کو زخمی کردیا۔ اس واقعہ کو بنیاد بناکر والمیک سماج کے ڈیڑھ ہزار لوگ لاٹھیاں اور ننگی تلواریں لہراتے ہوئے گاندھی نگر سے نکلے اور اتوار بازار مشرقی حصہ میں مسلمانوں کے گھروں پر حملہ کردیا۔ تاہم موتی کارنجہ کے نوجوانوں نے ان کا جم کر مقابلہ کیا۔ مسلم نوجوانوں کے جوابی حملہ سے ڈر کر والمیک سماج کے غنڈے مندر کے عقب میں پہنچ کر روپوش ہوگئے لیکن موقع کی تاک میں بیٹھے دھاؤنی محلہ ، راجہ بازار کے فرقہ پرست افراد موتی کارنجہ کی سرحد پر واقع چوراہے محلہ پہنچے اور جئے شیواجی جئے بھاونی کے نعرے لگانے لگے۔ مسلم نوجوان جیسے ہی آگے بڑھے لچھو پہلوان کا بھتیجہ اور اس کے ساتھی آئے تو لوگ بھاگ کھڑے ہوگئے۔ رات دیڑھ بجے شاہ گنج میں آتشزنی کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ سب سے پہلے چمن سے متصل چیک جوتوں کی سلسلہ وار دکانوں کو آگ کے حوالے کردیا گیا ۔ بعد ازاں چمن کے سامنے مسلم پھل فروشوں کی دکانوں کو نذرِ آتش کیا گیا ۔ یہ آگ اتنی مہیب تھی کہ اس نے سرجیت سنگھ سابروار کی پونہ آٹو موبائلس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ فرقہ پرستوں کی لگائی گئی آگ کی زد میں دکان سے متصل ایک مکان بھی آگیا۔ جس کے باعث جسمانی طور پر معذور ہوئے جگناتھ لال بنسلے جل کر فوت ہوگیا۔ رات کے آخری پہر پھل فروشوں کی دکان میں لگائی آگ پوپھٹنے تک پونہ آٹو موبائلس پوری طرح خاکستر ہوگئی۔ جس سے پچاس لاکھ روپئے کا نقصان ہوا۔ اس بیچ پولیس کی یکطرفہ کارروائی کی شکایتیں موصول ہوئی ہیں۔ راجہ بازار میں دو بھائیوں کی مشہور ڈرائی فروٹ کی عمارت سے نواب پورہ کی طرف صبح تک سنگباری ہوتی رہی لیکن پولیس پر صرف مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیے جانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ پولیس پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس دھانی محلہ ، راجہ بازار کے فرقہ پرستوں کو کھلی چھوٹ دی تھی ۔ دریں اثناء شہر کے کشیدہ صورتحال کی اطلاع ملتے ہی ریاست کے وزیر داخلہ رنجیت سنکھ پاٹل نے شہر کے متأثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ وزیر موصوف نے شاہ گنج ، راجہ بازار ، موتی کارنجہ اور سگما وگھاٹی اسپتال پہنچ کر بھی حالات کا بغور معائنہ کیا۔ بعد ازاں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فساد کے دوران جو دکانیں نذرِ آتش کی گئیں ضلع کلکٹر فوری ان املاک کا پنچنامہ کریں ، انہوں نے تیقین دلایا کہ حکومت فسادیوں کی ذات پات کو نہ دیکھتے ہوئے اعلی سطحی جانچ کروائیگی او راس تحقیقات کے لیے ریاستی سطح کے اعلیٰ افسران کا تقرر کیا جائے گا۔ وزیر داخلہ کے ہمراہ وزیر رابطہ ڈاکٹر دیپک ساونت ، رکن پارلیمنٹ چندر کانت کھیرے ، ایم ایل اے اتول ساوے ودیگر موجودتھے۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا