مکہ مسجد کیس کافیصلہ ناقابل اطمینان،جانچ میں انصاف سے کام نہیں لیاگیا:مولانااسرارالحق قاسمی

share with us

نئی دہلی :16؍اپریل2018(فکروخبر/ذرائع) معروف عالم دین وممبر پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے مکہ مسجد کیس میں این آئی اے کی خصوصی عدالت کے ذریعہ کیس کے تمام ملزمین کو ناکافی ثبوت کی وجہ سے بری کئے جانے پرسوال کھڑے کئے ہیں۔ان کا کہناہے کہ اس معاملہ میں تفتیشی ایجنسی،عدالت اور موجودہ مرکزی حکومت نے انصاف پسندی سے کام نہیں لیااور ملزمین کوباقاعدہ سازش کے تحت بچایاگیا ہے۔مولانا قاسمی نے کہاکہ جس کیس میں خود بنیادی ملزم سوامی اسیمانندنے اقبالیہ بیان دیاہواس کا مودی حکومت کے قائم ہونے کے بعد اپنے بیان سے پلٹ جانااورگواہوں کابھی اپنی گواہیوں سے منحرف ہوجانا یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کیس کے ملزموں کوبچانے کی کوشش کی گئی اور بالآخروہ کوشش کامیاب بھی ہوگئی ہے۔مولانانے کہاکہ اگر یہ تمام کے تمام ملزمین بے قصورہیں توکیا مکہ مسجد بم دھامکہ ہواہی نہیں یااین آئی اے اب دوبارہ مجرموں کوتلاش کرنے کے نام پر بے قصوروں کی گرفتاری کی مہم چلائے گی؟انہوں نے کہاکہ اس کیس میں جانچ کا عمل جس سنجیدگی اور ایمانداری سے ہونا چاہئے تھا اس میں کمی کی گئی اور اس کے نتیجے میں تمام ملزموں کو بری کردیاگیاہے۔انہوں نے کہاکہ اس فیصلہ کو ہائی کورٹ میں اپیل کرناچاہئے۔ واضح رہے کہ مکہ مسجد بم دھماکہ ۲۰۰۸ء میں جمعہ کی نماز کے دوران رونما ہوا تھاجس میں پانچ افرادجاں بحق اور پچاس سے زائد زخمی ہوئے تھے،یہ معاملہ پہلے سی بی آئی کے سپردتھا پھر وزارت داخلہ نے این آئی اے کے حوالہ کردیااور پانچ لوگوں کی گرفتاری عمل میں آئی جوسب کے سب سنگھ سے جڑے تھے اور اس کے سرگرم کارکن تھے،این آئی کی خصوصی عدالت کے سامنے ڈیڑھ سو سے زائد لوگوں کی گواہی درج کی گئی تھی جن میں سے۵۸؍گواہ بعد میں اپنے بیان سے پلٹ گئے۔اسی کیس میںآر ایس ایس کارکن سوامی اسیمانندکوگرفتار کیاگیا تھاجسے ۲۰۱۰ء میں گرفتار کیاگیااور انھوں نے اپنے تحریری بیان میں اعتراف کیاتھا کہ ان کی تنظیم ابھینوبھارت نے مکہ مسجد بلاسٹ کا پلان بنایا تھا۔ 
 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا