اسکولوں سے طلبہ کا اخراج، نوجوانوں میں جرائم میں اضافہ ہوتا ہے، ماہرین کا دعویٰ

share with us

لندن:15؍اپریل2018(فکروخبر/ذرائع) ہوم آفس کی ایک رپورٹ میں ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ سکولوں سے طلبہ کے اخراج کی وجہ سے نوجوانوں میں جرائم کے رجحان میں اضافہ ہوتاہے۔ماہرین کا کہناہے کہ جن نوعمر طلبہ کو سکولوں سے نکال دیاجاتاہے ان کے پرتشدد وارداتیں کرنے والے گروہوں اور کاؤنٹی میں منشیات فروشوں کے ہتھے چڑھنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ ڈیٹا سے انکشاف ہواہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران سکولوں سے نکالے جانے والے نوجوانوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہواہے۔ٹیلی گراف نے یہ خبر دیتے ہوئے ان علاقوں کی بھی نشاندہی کی ہے جہاں سکولوں سے طلبہ کے اخراج کی شرح زیادہ ہے اور نوجوانوں کے جرائم کی شرح بھی زیادہ ہے۔ ٹیلی گراف کے مطابق گزشتہ 4سال کے دوران چاقو یا حملہ کرنے کیلئے استعمال کئے جانے والے اسلحہ رکھنے کے واقعات میں65 فیصد تک اضافہ ہواہے۔اس بات کاانکشاف ایسے وقت ہواہے جب وزیر داخلہ امبر رد نے نوجوانوں کو ملک میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منشیات پہنچانے کیلئے استعمال کرنے والے گروہوں سے نمٹنے کیلئے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے اور نوجوانوں میں تشدد کی اس اصل اور گہری جڑ کی بیخ کنی کیلئے رقم دینے کابھی وعدہ کیاہے۔ جہاں تک سکولوں سے طلبہ کے اخراج کاتعلق ہے تو تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق 16۔2015کے دوران 6ہزار685 طلبہ کو مستقل طورپر سکولوں سے نکالاگیا یہ تعداد ایک سال قبل کے مقابلے میں 15.4 فیصد زیادہ ہیاس سے ظاہرہوتاہے کہ انگلش پرائمری، سیکنڈری اور سپیشلسٹ سکولوں سے روزانہ 35 طلبہ ہمیشہ کیلئے خارج کردئے جاتے ہیں۔ 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا