کٹھوعہ ریپ کیس ، محبوبہ مفتی کا بڑا فیصلہ ،تین پولس اہلکار برخاست

share with us

جموں :15؍اپریل2018(فکروخبر/ذرائع)کٹھوعہ اجتماعی جنسی استحصال اور قتل کیس میں ریاستی پولیس نے تین پولیس افسروں کو معطل کر دیا ہے۔اس دوران ریاستی وزیراعلی نے چیف جسٹس دیپک مشرا کو خط لکھ کر اس کیس کو فاسٹ ٹریک عدالت میں سماعت کی اپیل کی ہے۔واضح رہے کہ ابتدائی جانچ کے مطابق یہ تینوں ریپ اور قتل کیس کے اہم ملزم تھے۔ریاستی حکومت نے تینوں ملزمین سب انسپیکٹر آنند دتا، ہیڈ کانسٹیبل تلک راج اور خصوصی پولیس افسر دیپک کھجوریہ کو عہدے سے برخواست کر دیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ دیپک کھجوریہ پر بچی کا اغوا، اجتماعی جنسی ہراساں اور پھر قتل میں شامل ہونے کے الزامات عائد ہیں۔ان تینوں کی معطلی کے بعد ریاستی وزیراعلی محبوبہ مفتی نے کہا ''متاثرہ اہلخانہ کو انصاف دلانے کے لیے جس طرح ملک کے لوگ متحد ہوئے اس سے نظام میں اعتماد بحال ہوگا''۔علاوہ ازیں محبوبہ مفتی نے مقتول بچی کو انصاف دلانے کے لیے ریاستی حکومت کا ساتھ دینے کے لیے پورے ملک، عدلیہ، میڈیا اور سول سوسائٹی کی ستائش کی ہے۔
دریں اثنا سی بی آئی جانچ کے مطالبے کے پیش نظر بار اسوسی ایشن نے کینڈل مارچ نکالا اور مقتول بچی کے مقدمہ مفت میں لڑنے کی تجویز کو واپس لے لیا۔بار کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ایک روز قبل ہی عدالت عظمی نے عدلیہ عمل کو روکنے کی کوشش پر سنجیدگی سے لیا اور کہا تھا کہ اس طرح کی رکاوٹ سے عدلیہ نظام متاثر ہو رہا ہے۔واضح رہے کہ جموں کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں 10 جنوری کو اغوا کرکے اس کے ساتھ ایک ہفتے تک ایکی مندر میں اجتماعی جنسی استحصال کیا اور پھر بےرحمی سے قتل کرکے قریبی جنگل میں اس کی لاش پھینک دی گئی۔اس معاملے کے متعلق ملک گیر سطح پر پُرامن مظاہرے کیے جارہے ہیں اور مقتل بچی کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا