Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا

حضرت مولانا محمد سالم صاحب قاسمیؒ 

share with us

 محمد حماد کریمی ندوی


مختصر سوانحی خاکہ 
نام: محمد سالم 
والد کا نام: (حکیم الاسلام قاری) محمد طیب
جائے پیدائش: دیوبند، سہارنپور، انڈیا
تاریخ پیدائش: ۲۲؍جمادی الثانی ۱۳۴۴ ؁ھ مطابق ۸؍جنوری ۱۹۲۶ ؁ء
ابتدائی تعلیم: مختلف اساتذہ سے انفرادی طور پر
ثانوی تعلیم: دار العلوم دیوبند
تکمیل: دار العلوم دیوبند
وفات: ۲۷؍ رجب ۱۴۳۹ ؁ھ مطابق ۱۴؍ اپریل ۲۰۱۸ ؁ء 

تمہید:
خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم صاحب قاسمی خانوادۂ قاسمی کے گلِ سر سبد اور حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب کے خلفِ اکبر وجانشین اور دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم اور ا س کے سرپرست تھے۔
نیز حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ کے صحبت یافتہ اور شاگرد بھی ہیں، زمانۂ تعلیم کے ان کے رفقاء میں کئی ممتاز شخصیات میں سے ایک نام حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی مدّظلّہ العالی کابھی ہے، جو ہدایہ کے سبق میں ان کے ساتھ تھے، ان کے معاصرین اور رفقاء تعلیم میں حضرت مولانا اسعد مدنی ابن شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا عتیق الرحمن بن مولانا محمد منظور نعمانی وغیرہ شامل ہیں۔ (مولانا محمود حسن حسنی ندوی)
نام ونسب:
(حضرت مولانا) محمد سالم بن (مولانا قاری) محمد طیب بن (مولانا) محمد احمد بن (حجۃ الاسلام مولانا) محمد قاسم بن اسد علی بن غلام شاہ بن محمد بخش بن علاء الدین ابو الفتح بن محمد مفتی بن عبد السمیع بن محمد ہاشم بن شاہ محمد بن قاضی طہٰ بن مفتی امان اللہ بن قاضی جمال الدین بن قاضی میراں بن قاضی مظہر الدین، جن کا سلسلۂ نسب حضرت قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے جا ملتاہے۔ (حیات طیب، ج:۱)
ولادت باسعادت :
اس علمی خانوادہ اور بزرگ والدین کی گود میں آپ کی ولادت بروز جمعہ بتاریخ ۲۲؍جمادی الثانی ۱۳۴۴ ؁ھ مطابق ۸؍جنوری ۱۹۲۶ ؁ء کو دیوبند میں ہوئی۔
خاندان واجداد :
جیسا کہ معلوم ہوا کہ آپ کا سلسلۂ نسب خلیفۂ اول سیّدنا ابو بکر صدیقؓ تک پہنچتا ہے، اس خانوادہ کی ہندوستان آمد کے متعلق الامام الأکبر کے مصنف ڈاکٹر محمد اویس صدیقی نانوتوی فرماتے ہیں:
’’سب سے پہلے اس خاندان کے جس فرد نے ہندوستان کا رُخ کیا وہ قاضی مظہرالدین ہیں، جو نویں صدی ہجری کے اواخر میں سکندر لودھی کے زمانے میں اس کی دعوت پر ہندوستان تشریف لائے، اسی زمانہ میں نانوتہ واطراف میں جاٹوں نے سر اٹھایا، جن کی سر کوبی کے لئے سکندر لودھی نے قاضی مظہر الدین کے فرزند قاضی میراں کی قیادت میں ایک لشکر بھیجا، لشکر کی کامیابی پر خوش ہو کر سکندر لودھی نے یہ علاقہ اس خاندان کے نام کردیا، اس کے بعد سے اس خاندان نے نانوتہ میں بودوباش اختیار کی، پھر دار العلوم دیوبند کے قیام کے بعد مولانا قاسم نانوتوی اور ان کے اہلِ خانہ دیوبند کے ہو کے رہ گئے۔ (الإمام الاکبر ص:۷۴۔۷۵)
والد ماجد:
مولانا کے والد ماجد حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ کی ذاتِ گرامی سے کون واقف نہیں ہوگا؟آپ علم وکمال، حکمت وبصیرت، فہم وفراست، اخلاق وعمل، پاکیزگی وتقدس کی ایک خوبصورت تصویر، مسلکِ دیوبند کے ترجمان اور ملّت کے صالحین کی سیرت وکردار کے عکسِ جمیل تھے، آپ کی بھی ولادت باسعادت دیوبند ہی میں ہوئی، سات سال کی عمر میں تعلیم کی ابتداء کی، حصولِ تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے دار العلوم دیوبند میں تدریسی خدمات انجام دینا شروع کیا اور مختلف علوم وفنون کی اہم کتابیں پڑھائیں، ۱۳۴۱ ؁ھ تا ۱۳۴۸ ؁ھ تک آپ دار العلوم دیوبند کے نائب مہتمم کے منصب پر فائز رہے، پھر آپ کو مہتمم منتخب کیا گیا، اس عہدے پر آپ تقریباً تاحیات فائز رہے۔ (حیات طیب، ج:۱)
یوں تو حضرت قاری صاحب پر بہت کچھ لکھا گیا، اور لکھا جاتا رہے گا، جس میں حضرت قاری صاحب کی انفرادی خصوصیات ، امتیازی صفات اور روشن خیالات کا اعتراف کیا گیا، جن کا احصاء مشکل ہے اور نہ ہی یہ اس وقت کا ہمارا موضوع ہے، اس موقع پر ہم اپنے استاذِ محترم، ندوۃ العلماء کے ناظم جناب مولانا سید محمد رابع حسنی ندویؔ دامت برکاتہم کی ایک تحریر کا اقتباس پیش کر نے پر اکتفا کرتے ہیں:
’’حکیم الاسلام کی شخصیت اپنے عہد کی بڑی مایہ ناز علمی وادبی شخصیت تھی، علم دین اور حکمت ودانش کے بلند پایہ حامل تھے، انھوں نے اپنے عظیم مورث اور علومِ دینیہ میں مقام بلند رکھنے والے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ سے علمی گیرائی اور وسعت کی وراثت پائی تھی، اس کو ان کی تقریروں تحریروں اور دروس میں محسوس کیا جاتا رہا ہے۔
انھوں نے اس بلند علمی مقام کے ساتھ ساتھ دارا لعلوم دیوبند جیسی عظیم درسگاہ کو جو اُن کے اسلاف کی کوشش کا مرکز رہی تھی، اپنے آغاز جوانی میں سنبھالا، اور اس کی خدمت میں اپنی پوری عمر لگادی، ان کی کوششوں کا مظہر صرف دار العلوم دیوبند کی ترقی اور مضبوطی ہی میں نمایاں اور محدود نہیں تھا، بلکہ اس کے نمائندۂ خاص ہونے کے تعلق سے ہندوستانی مسلمانوں کی دینی رہنمائی کا فریضہ بھی اثر پذیری کے ساتھ انجام دیا، مسلمانوں میں جو دینی انحراف یا عقائد کی خرابی پائی جاتی تھی اس کے ازالہ میں بھی خصوصی حصہ لیا۔
وہ ایک دلنواز اسلوب کے حامل خطیب تھے، ان کی شخصیت بھی دل نواز تھی، وہ اپنی باطنی خوبیوں کے ساتھ ساتھ دل نواز طرزو انداز کے بھی مالک تھے، طبیعت میں نرم مزاجی اور خوش اخلاقی تھی، ان سے مل کر مسرّت حاصل ہوتی تھی اور طبیعت ان کی طرف مائل ہوتی تھی، گفتگو اور انداز کلام دل کو متأثر کرنے والا اور ذہنوں کو مطمئن کرنے والا تھا، اپنی بات کو علمی وتاریخی حوالوں اور مثالوں سے واضح کرتے تھے، بعض اہم ترین موقعوں پر علماء کی طرف سے ان کی نمائندگی بڑی مؤثر ثابت ہوئی، اس طریقہ سے در اصل دیوبند جو علوم دینیہ کا ایک مؤثر ترین ادارہ رہا ہے اور ہے، اس کی صحیح نمائندگی کا مولانا نے حق ادا کیا، اور اس کے مہتمم کے منصب پر فائز رہے، اور جو ذمہ داری ان پر عائد ہوتی تھی اس کو بھی ادا کیا‘‘، شوال ۱۴۰۳ ؁ھ مطابق ۱۹۸۳ ؁ء کو آپ کی وفات ہوئی۔(حیات طیب ج:۱، ص:۲۲۔۲۳)
والدہ ماجدہ:
آپ کی والدہ سہارنپور کے ایک قصبہ رامپور منیھارن کے ایک انصاری علمی خاندان کی چشم وچراغ ، مولانا حافظ محمد صاحب کی دختر نیک اختر حنیفہ خاتون تھیں، ان کے متعلق خود مولانا کے والد حکیم الامت قاری محمد طیب صاحب ؒ کے یہ تأثرات ہیں، فرماتے ہیں:
’’خود اپنی ذات سے صالحہ، پابندِ اوقات اور اپنے معمولات پر مستقیم تھیں، میں ان کے معمولات غبط کی نگاہوں سے دیکھا کرتا تھا، اور بسا اوقات ذہن میں تصوربندھ جاتا ہے کہ شایدیہی خاتون میرے لئے بھی نجات کا ذریعہ بن جائے، مرحومہ کو فرائض کی ادائیگی کا حد درجہ اہتمام تھا، گھر کے کیسے ہی کام میں مصروف ہوں، اذان کی آواز سنتے ہی ہر کام سے بیگانہ وار اُٹھ کر اوّل اوقات میں نماز ادا کئے بغیر مطمئن نہ ہوتی تھیں، ایک ہزار دانے کی تسبیح ان کے سرہانے رہا کرتی تھی، نمازِ عشاء کے بعد ایک ہزار بار کلمہ طیّبہ اور ادعیہ ماثورہ پڑھنے کا معمول تھا، جو سفر وحضر میں جاری رہتا، نمازِ صبح کے بعد تلاوتِ قرآن کریم سفر وحضر میں بغیر کسی شدید اور غیر اختیاری مجبوری کے ناغہ نہیں ہوتا تھا۔‘‘ (جذبات الم ص:۶۔۷)
۱۰؍محرم ۱۳۹۴ ؁ھ کو ان کا انتقال ہوا۔
مزید لکھتے ہیں:
’’حج کا بھی ایک شوق ان کے دل میں تھا، میری معیت میں سات بار حج وزیارت روضۂ اقدس سے مشرف ہوئیں۔
حج ونماز اور اوقات کی پابندی کے ساتھ ان میں زکوٰۃ کی ادائیگی کا یہ شغف تھا کہ پائی پائی کا حساب کرکے ادا کیا کرتی تھیں، شہر کے عزیزوں میں غریبوں اور بالخصوص غریب بیواؤں کی فہرست ان کے سامنے رہتی تھی، اس کے علاوہ اور بھی بہت سی خصوصیات وکمالات کی حامل تھیں‘‘۔ (حوالۂ سابق)
تعلیم وتربیت:
مولانا نے اپنے والد حضرت حکیم الاسلام کی نگرانی وتربیت میں پرورش پائی، ۱۳۵۱ ؁ھ میں تعلیم کا آغاز ہوا، ناظرہ وحفظ قرآن کریم کی تکمیل جناب پیر جی شریف صاحب گنگوہی کے یہاں ہوئی۔
فارسی کا چار سالہ نصاب مکمل کیا، آپ کے فارسی کے اساتذہ میں خلیفہ عاقل صاحبؒ ، مولانا ظہیر صاحبؒ ، مولانا سید حسن صاحبؒ تھے۔
۱۳۶۲ ؁ھ میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی زبانِ مبارک سے میزان پڑھی، یہ عظیم سعادت اس وقت پوری دنیا میں آپ کو ہی حاصل ہے، آپ کے علاوہ حکیم الامت سے باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے والوں میں اب کوئی موجود نہیں ہے۔
علوم وفنون کی کتابوں میں کنزالدقائق حضرت مولانا سید اختر حسین میاں صاحبؒ سے، میبذی قاری اصغر صاحبؒ سے، مختصر المعانی ونظم العلوم حضرت مولانا عبدالسمیع صاحبؒ سے اور ہدایہ حضرت مولانا عبدالاحد صاحبؒ سے پڑھی۔
آپ نے ۱۳۶۷ ؁ھ مطابق ۱۹۴۸ ؁ء میں فراغت حاصل کی، آپ کے دورۂ حدیث شریف کے اساتذہ میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ ، شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی صاحبؒ ، جامع المعقول والمنقول حضرت مولانا ابراہیم صاحب بلیاویؒ اور حضرت مولانا سید فخر الحسن صاحبؒ وغیرہ ہیں۔ (الشیخ محمد سالم القاسمی)
درس وتدریس:
ذاتی صلاحیت، علمی پختگی اور خطابی قابلیت کا نتیجہ تھا کہ تعلیمی مراحل سے فراغت کے فوراً بعد ہی دار العلوم دیوبند میں بحیثیت مدرس مقرر ہوئے اور ابتداءً نورالایضاح اورترجمۂ قرآن کریم کا درس آپ سے متعلق رہا، پھر بعد میں بخاری شریف، ابوداؤد شریف، مشکوٰۃ شریف، ہدایہ، شرح عقائد وغیرہ کتابیں آپ سے متعلق رہیں۔
تدریسی زندگی کے متعلق ان کے ایک شاگردِرشید جناب مولانا محمد اسلام صاحب قاسمی (استاذ حدیث دار العلوم وقف، دیوبند) اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
’’حضرت مولانا دار العلوم کے وہ استاذ ہیں، جو تدریس کے ساتھ وقت کے اتنے پابند کہ بلاشبہ طلبہ درسگاہ میں ان کی آمد پر اپنی گھڑیوں کے ٹائم سیٹ کرتے، طلبہ دیکھا کرتے تھے کہ وہ متعینہ درسگاہ (دار التفسیر) میں ایک قدم اندر رکھتے اسی وقت گھنٹہ بجتا تھا، وقت کے منٹوں اور سیکنڈوں کے لحاظ سے اتنے پابند دارالعلوم کے اساتذہ وکارکنان میں سے کوئی نہ تھا، یہ بھی ان کی خوبی تھی کہ تدریس کے لیے وہ اپنے گھر سے نکلتے اور براہ راست درسگاہ پہنچتے، اختتامی گھنٹہ بجتا اور وہ واپس صدر گیٹ کے راستے اپنے گھر کو، نہ کسی سے ملاقات، نہ کسی دفتر میں جانا‘‘۔ (ندائے دار العلوم)
امتیازی کمالات:
آپ جملہ علوم وفنون میں ممتاز صلاحیتو ں کے مالک، بالغ نظر، بلند فکر کے حامل ہیں، علوم قاسمی کی تشریح وتفہیم میں حکیم الاسلامؒ کے بعد شاید ہی آپ کا کوئی ہم پلّہ ہو، ہمیشہ علمی کاموں کے محرک رہے، زمانۂ تدریس میں دار العلوم دیوبند میں ایک تحقیقی شعبہ مرکز المعارف کا قیام عمل میں آیا، اور اس کے ذمہ دار بنائے گئے، ۱۹۹۶ ؁ء میں مراسلاتی طریقۂ تعلیم کی بنیاد پر اسلامی علوم ومعارف کو جدید جامعات میں مصروفِ تعلیم طلباء وطالبات کے لئے آسان وقابلِ حصول بنانے کی غرض سے جامعہ دینیات دیوبند قائم فرمایا، جو کہ اُس دور کا خوبصورت ترین طریقۂ تعلیم تھا، آپ نے قرآن کریم پر ایک خاص حیثیت سے کام کا آغاز کیا، افسوس کہ یہ عظیم فاضلانہ علمی کام شورش دار العلوم کی نذر ہوگیا، آپ کے عالمانہ وحکیمانہ خطاب کا شہرہ عہدِ شباب ہی میں ملک کی سرحدوں کو پار کرچکا تھا، علم میں گہرائی، فکر میں گیرائی، مطالعہ میں وسعت، مزاج میں شرافت اور باقاعدگی، زبان سے نکلا ہوا ہر جملہ فکر وبصیرت سے منور، حکمت وفلسفہ کے رنگ میں کتاب وسنت کی بے مثال تشریح وتفہیم کا ملکہ، مدلّل اسلوبِ گفتگو وصاحب الرائے، یہ وہ امتیازی کمالات ہیں جن سے آپ کی ذات مرصع ومزین ہے۔ (حیات طیب، ج:۱)
قیام دار العلوم وقف دیوبند:
۱۴۰۳ ؁ھ مطابق ۱۹۸۲ ؁ء میں دار العلوم میں پیدا ہونے والے اختلاف کے بعد آپ نے اپنے رفقاء کے تعاون سے دار العلوم وقف کے نام سے دوسرا دار العلوم قائم کرلیا، جس کے شروع سے مہتمم اور اخیر میں سرپرست رہے، ساتھ ہی بخاری شریف کی تدریسی خدمات کا فریضہ بھی انجام دیتے رہے۔
عہدے ومناصب:
آپ اپنی حیات میں مندرجہ ذیل عہدے ومناصب کے حامل رہے، اور بحسن وخوبی اپنی ذمہ داریوں کو انجام دیتے رہے:
(۱) مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ماضی میں رکن مجلس عاملہ اور اب نائب صدر۔
(۲) سرپرست دار العلوم وقف دیوبند۔
(۳) صدر مجلس مشاورت۔
(۴) رکن مجلس انتظامیہ وشوریٰ ندوۃ العلماء۔
(۵) رکن مجلسِ شوریٰ مظاہر العلوم وقف۔
(۶) مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے کورٹ کے رکن۔
(۷) سرپرست کل ہند رابطۂ مساجد۔
(۸) سرپرست اسلامک فقہ اکیڈمی، انڈیا۔
انعامات واعزازات:
(۱) مصری حکومت کی طرف سے برِّصغیر کے ممتاز عالم کا نشانِ امتیاز۔
(۲) مولانا قاسم نانوتوی ایوارڈ۔ (۳) حضرت شاہ ولی اللہؒ ایوارڈ۔
اوربہت سے انعامات واعزازات سے آپ کو نوزا گیا ہے
انفرادی خصوصیت:
اللہ تبارک وتعالیٰ نے مولانا کو گوناگوں خصوصیات اور بے شمار امتیازی صفات سے نوازاتھا، لیکن مولانا کی ایک اہم خصوصیت جس کا ہر ایک کواعتراف تھا وہ امت اور ملّت کی فکر میں اپنا سب کچھ قربان کر دیناہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ آخری عمر میں بھی جب کہ کمزوری غالب آچکی تھی، پھر بھی ہندوبیرونِ ہندکے اسفار کرتے رہتے ، جلسوں میں شرکت کرتے ، عوام سے مخاطب ہوتے، اداروں اور مدارس کی سرپرستی ونگرانی فرماتے، ہر وقت امت کی فکر میں اور اس کی خیر وصلاح کے سلسلہ میں متفکر رہتے، اور تعجب کی بات تو یہ ہے کہ تمام کاموں کو بحسن وخوبی انجام دیتے۔
ایک اہم کارنامہ:
یوں تو مولانا نے مختلف طریقے پر دین کی خدمت انجام دی، لیکن مولانا کا سب سے بڑا اور اہم کارنامہ دینیات کے نصاب کا قیام اور اس کی اشاعت وترویج ہے۔
مولانا نے جب محسوس کیا کہ بچّوں اور بچّیوں کی تعلیم کے ادارے تو بہت ہیں، اور اس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، لیکن بڑی عمر کے لوگوں کے لئے دینی تعلیم کا کوئی نظم نہیں ہے، اس مقصد کے پیشِ نظر ۱۹۹۶ ؁ء میں مولانا نے جامعہ دینیات کے نام سے ایک دارہ قائم کیا، اور اس کے ذریعہ گھر بیٹھے دینی تعلیم حاصل کرنے کا آسان طریقہ متعارف کرایا، جو آج تک آپ کی سرپرستی میں اپنا فیض جاری رکھے ہوئے ہے۔
اولاد:
(۱) محمد سلمان قاسمی
شرحِ جامی تک دار العلوم دیوبند میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد مسلم یونیورسٹی علی گڑھ اور جامعہ ملّیہ اسلامیہ دہلی میں تعلیم حاصل کی، ایم۔اے کرنے کے بعد ۱۹۸۰ ؁ء میں بہ غرض ملازمت جدّہ چلے گئے، چار سال وہاں قیام رہا ، ۱۹۸۶ ؁ء میں پاکستان منتقل ہوگئے، اور وہیں آئی۔ اے میں ملازم ہوئے۔
(۲) (مولانا) محمد سفیان قاسمی
حفظِ قرآن کریم کے بعد دار العلوم دیوبند میں تعلیم مکمل کی، ۱۹۷۵ ؁ء میں دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوئے، دورانِ تعلیم ہی پرائیوٹ طریقے پر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے ہائی۔ اسکول سے ایم۔ اے تک امتحانات دیے، ۱۹۷۶ ؁ء میں جامعۃ الازھر، قاہرہ میں کلیۃ الشریعہ سے ماجستیر (ایم۔اے) کیا، ۱۹۸۰ ؁ء میں واپسی ہوئی، ۱۹۸۳ ؁ء سے دار العلوم وقف سے وابستگی ہوئی، اور ابتدائی کتب زیرِ تدریس رہیں، تدریجاً انتظامی ذمہ داریاں بھی سپرد ہوئیں، ۲۰۰۷ ؁ء کے کلکتہ اجلاس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رُکن منتخب کئے گئے، اس کے علاوہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے بھی رُکن ہیں۔
(۳) محمد عدنان قاسمی
جامعہ ملّیہ اسلامیہ دہلی سے ہائی اسکول کرنے کے بعد مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے ایم۔ کام، تک تعلیم حاصل کی، تجارتی سرگرمی کے لئے ۱۹۹۰ ؁ء تا ۱۹۹۲ ؁ء ساؤتھ امریکہ کے ملک چلّی میں مقیم رہے، فی الحال دہلی میں مقیم ہیں اور تجارتی مصروفیات میں مشغول ہیں۔
(۴) حافظ محمد عاصم قاسمی
حفظِ قرآن کے بعد جامعہ ملّیہ دہلی سے ہائی اسکول پاس کیا، جیّد حافظ ہونے کے ساتھ خوش لحن انداز میں قراء ت سے متأثر ہوکر بعض عرب حضرات نے بہ غرض تراویح امریکہ کی دعوت دی، بقیہ تعلیم وہیں مکمل کی، تعلیم کے بعد تجارتی مصروفیات کے ساتھ ساتھ واشنگٹن کے اسلامک سینٹر سے بھی وابستہ رہے، اور اپنے حلقۂ اثر میں تبلیغ اسلام خاص موضوع رہا، چالیس سے زائد افراد نے دل نشیں انداز تعلیمات سے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا، جنھیں قرآن کی تعلیم دی، دنیا کے مختلف ممالک میں قیام پذیر ہوئے، اور امریکی شہریت اختیار کی، اب دہلی میں مقیم ہیں۔
(۵) اسماء اعجاز
سید اعجاز حسنی صاحب، جوکہ چاندپور، ضلع بجنور کے ایک معروف گھرانے کے چشم وچراغ ہیں،سے منسوب ہیں، ایم اے اُردو تک تعلیم حاصل کی، اس وقت دہلی میں مقیم ہیں۔
(۶) عظمیٰ ناھید
مولانا حامد انصاری غازی صاحب کے صاحبزادے سلمان منصور غازی صاحب کے نکاح میں ہیں، إقراء ایجوکیشنل فاؤنڈیشن شکاگو کی ہندوستانی شاخ کی چیرمین ہیں، اس کے علاوہ ملک وبیرون ملک اصلاحی تحریکات سے فعال وابستگی کی بنیاد پر ملک کی معتبر ترین خاتون کی حیثیت سے متعارف ہیں، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ میں خواتین ونگ میں نہایت فعال شخصیت کی حیثیت سے جانی جاتی ہیں۔ (پسِ مرگ زندہ)
اخلاق وعادات:
مولانا خاندانِ قاسمی کی بہت سی خوبیوں اور خصوصیات کے وارث وامین تھے، ہر جماعت اور ہر طبقے کے لئے محترم، باوجود یکہ ان کے خلاف باضابطہ مہم بھی چلائی گئی، ان کو مطعون کرنے کی کوشش کی گئی، مگر کبھی تقریر یا تحریر کے ذریعہ کسی کے خلاف بولنے کے روا دار نہیں ہوئے، نہ غیبت کرنا جانتے ہیں، نہ سننا پسند کرتے ہیں، سخت ترین مخالفین کے خلاف بھی لب کشائی نہیں فرماتے، مجلس میں ہوں تو باوقار، اسٹیج پر ہوں تو نمونۂ اسلاف، سفر میں ہوں تو مرنجا مرنج وخوش مزاج، مدارس کے اجلاس میں شرکت کرتے، مگر سفر کے تعب ومشقت کا قطعی تذکرہ نہیں، ہر طرح کے سفر اور محنت ومشقت کے خوگرتھے۔
اساتذہ:
مولانا نے اپنے زمانے کے ممتاز ومایہ ناز علماء ومشائخ سے استفادہ کیا، جن میں سے کچھ یہ ہیں:
(۱) مولانا اشرف علی تھانویؒ 
(۲) علاّمہ ابراہیم بلیاویؒ 
(۳) شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہویؒ 
(۴) شیخ الحدیث مولانا فخر الحسن گنگوھیؒ 
(۵) شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ 
(۶) حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحبؒ 
(۷) شیخ الاسلام حسین احمد مدنیؒ 
خطابت واسفار:
مولانا کا ایک اہم اور نمایاں وصف خطابت تھا، اور وہ خطیب الاسلام، خطیب العصر اور جانشین حکیم الاسلام جیسے القاب وخطابات سے یاد کئے جاتے تھے۔
چونکہ خطابت میں روانی تھی اور حلقہ معتقدین کا، اس لئے ملک وبیرون ملک دعوتی اسفار ہوتے رہتے تھے، بلا مبالغہ کہاجاسکتا ہے کہ دیوبند میں قیام اور تدریس واہتمام کے ایّام کے مقابلے میں اسفار اور اجلاس، کانفرنس، سیمینار وغیرہ میں شرکت کے لئے دورے زیادہ ہیں، کئی جلدوں پر مشتمل ان کے خطبات کا مجموعہ شائع ہوچکا ہے۔
ذوقِ تحقیق وتصنیف:
کثرتِ اسفار اور بے پناہ مشغولیات کے باوجود مولانا مضمون نویسی اور تالیف وتصنیف کے لئے کچھ وقت نکالتے تھے، مختلف عنوانات پر بیش قیمت مقالے تحریر کئے ہیں، کتابوں کے لئے تمہیدی مقدمات اور بے شمار تقریظات لکھیں ہیں، چند کتابیں بھی طبع ہوچکی ہیں اور بہت سارا مواد منتظر طباعت ہے، مطبوعہ کتب میں ’’مبادی التربیۃ الاسلامیۃ‘‘ (عربی) ’’تاجدارِ ارضِ حرم کا پیغام‘‘،’’ مردِ غازی‘‘ اور ایک ’’عظیم تاریخی خدمت ‘‘وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔
اس سب کے باجود حقیقت یہ ہے کہ مولانا نے باضابطہ طور پر اگرچہ تصنیف وتحقیق کا میدان اختیار نہ کیا، لیکن ان کے تبحر علمی سے مستفید ہوکر اربابِ علم وفضل نے مختلف موضوعات پر کئی اہم کتابیں تصنیف کی ہیں، اور حضرت حکیم الاسلام مولاناقاری محمد طیب صاحب کے خطبات، مقالات ، ملفوظات اور رسائل کے مجموعے ان کی رہنمائی اور نگرانی میں شائع ہوچکے ہیں، ادھر قریبی عرصہ میں حجۃ الاسلام اکیڈمی کے ذریعہ بہت سے علمی کام انجام پائے ہیں، خصوصاً سوانحی موضوعات پر کتابیں شائع ہوئی ہیں۔
تعلق بیعت وارشاد:
مولانا محمد سالم صاحب نے بیعت وارادت کا تعلق حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری سے قائم کیا، لیکن اصلاح وتربیت اپنے والد ماجد حضرت مولانا قاری طیب صاحبؒ سے لی، اور ان کے مجازِ بیعت وارشاد ہوکر ان کے متوسلین اور خلفاء کی تربیت فرمائی۔
مولانا کے سلوک وارشاد میں تربیت واجازت پانے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے، اجازت یافتہ حضرات کی تعداد ۱۰۰؍ سے متجاوز ہے۔
عظیم قاسمی علمی میراث:
حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی کو اللہ تعالی نے اپنے خصوصی فضل وکرم سے نوازا تھا، علم وعمل کے میدان میں ایک عظیم الشان مجدد کی حیثیت سے اسلامی دنیا آپ کو ہمیشہ یاد رکھے گی، امام الہند شاہ ولی اللہ دہلوی کی اسلامی علمی وراثت کے محافط ہونے کے سبب مولانا کا مقام یگانہ ہے، دار العلوم جیسے عظیم اسلامی ادارے اور اس کے علاوہ کئی اور دینی مدارس کے بانی ہونے کی حیثیت سے مولانا کی فوقیت مسلم ہے۔
اس کے ساتھ ہی اللہ نے مولانا کو ایک اور عظیم نعمت سے سرفراز فرمایا ہے، اور وہ ہے آپ کے نہایت ہی لائق وفائق علمی وصلبی ورثاء۔
آپ کے بعد آپ کے مسندِ علم پر جلوہ افروز ہونے والے آپ کے لائق وفائق فرزند ارجمند مولانا محمد احمد صاحب نانوتویؒ نے اپنی لیاقت اور نسبت کے ذریعے دار العلوم دیوبند کو عالمی ادارہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا، اور دار العلوم دیوبند کے مسندِ اہتمام پر ۴۰ سال تک جلوہ افروز رہتے ہوئے دار العلوم دیوبند کی تمام ابتدائی عمارتوں کی تکمیل فرمائی۔
ان کے بعد ان کے فرزند حجۃ الاسلام کے پوتے حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحبؒ نے علمی حلقوں میں عظیم الشان مقام حاصل کیا، امام نانوتو یؒ کے اس عظیم اور مقرر بے مثال پوتے کو دار العلوم دیوبند کا ’’معمارِ ثانی‘‘ کہا جاتا ہے، امام نانوتوی کے علوم کے شارح ہونے کے ساتھ مسلکِ دیوبند کے سب سے عظیم ترجمان کی حیثیت سے حضرت حکیم الاسلام کا مقام مسلم ہے، علمائے دیوبند میں حکیم الاسلام کو عظیم الشان مقرر تسلیم کیا جاتا ہے،’’ خطبات حکیم الاسلام‘‘ جو کہ آپ کی تقاریر کا مجموعہ ہے، اس کے علاوہ آپ کی دیگر تصانیف، اسرارِ شریعت کا خزانہ ہونے کے علاوہ مسلک علمائے دیوبند کی ترجمان ہیں، حکیم الاسلام دار العلوم دیوبند کی تاریخ میں سب سے لمبی مدت یعنی ۵۳ سال تک منصب اہتمام پر فائز رہے، اور دنیا کے مختلف گوشوں میں جا کر دار العلوم دیوبند کی خدمات سے اہل علم کو متعارف کروایا۔
علاوہ ازیں امام نانوتوی کے پڑپوتوں اور حکیم الاسلام کے دو فرزندوں خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم صاحب قاسمی اور آپ کے برادر محترم حضرت مولانا محمد اسلم صاحب قاسمی علومِ حدیث وتفسیر میں اپنا اہم اور اعلی مقام رکھتے تھے۔
اس طرح حضرت مولانا محمد سالم صاحب قاسمی بلاشبہ مکتبۂ فکر دیوبند کو امام نانوتوی اور تمام اکابر علمائے دیوبند کی فکر وبصیرت اور علمی وراثت سے جوڑے رکھنے والی ایک اہم کڑی تھے۔
اس طرح الحمد للہ علم کا وہ بحرِ بیکراں جو امام نانوتوی کے ہاتھوں کی انگلیوں سے جاری ہوا تھا، اور وہ تحریک جس کا مقصد ہندوستان میں اسلام کی شمع کو روشن رکھنا تھا، اسے ان کے انتہائی لائق وفائق علمی و صلبی ورثاء نے جاری و روشن رکھا، اور یہی وجہ بھی بنی کہ حق سبحانہ وتعالی نے خانوادۂ علمیہ قاسمیہ کو خانوادۂ والی اللٰہی کا متبادل بنا کر ہندستان کے مسلمانوں کا ناخدا بنا دیا۔ (Islamicthought.edu ) 
*******
ماخوذ از: روشن چراغ، شائع کردہ مکتبہ الشباب العلمیہ، لکھنؤ
مزید تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو:
(۱) روشن چراغ
(۲) حیات طیب، شائع کردہ: حجۃ الاسلام اکیڈمی۔
(۳) پس مرگ زندہ، از: مولانا نور عالم خلیل امینی۔
(۴) خطیب الاسلام الشیخ محمد سالم القاسمی۔
(۵) ندائے دار العلوم کے مختلف شمارے۔
(۶) مولانا اسلام صاحب کا مضمون، شائع شدہ ندائے دار العلوم وقف۔
ٍ (۷) الامام الأکبر، از: محمد اویس صدیقی نانوتوی۔
(۸) دیوبند وعلمائے دیوبند سے متعلق ویب سائٹس

متعلقہ مضامین

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا