Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا

اسی کو کہتے ہیں بات کا بتنگڑ

share with us

حفیظ نعمانی


اُترپردیش کے گورنر رام نائک صاحب کا چہرہ ریاست کے عوام کے لئے اجنبی نہیں ہے۔ وہ اٹل جی کے زمانہ میں پیٹرولیم منسٹر تھے اور ہر ہفتہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھاتے تھے جس کی وجہ سے ہر کسی کی نگاہ میں ان کا چہرہ تھا۔ وہ لکھنؤ آئے تو کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ لکھنؤ کی گنگا جمنی تہذیب انہیں بھی پوری طرح گرفت میں لے لے گی اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ ہندی کے نہیں مراٹھی کے پروردہ تھے۔ لکھنؤ میں جب پہلی بار ہم نے سنا کہ اُردو کے پروگرام میں مہامہم رام نائک جی تشریف لارہے ہیں تو خیال ہوا کہ افتتاح کی رسم ادا کرکے وہ چلے جائیں گے لیکن انہوں نے پورے پروگرام میں حصہ لیا اور کوشش کی کہ وہ سمجھیں کہ اُردو میں کیا کیا کہا گیا ہے۔ پھر اس کے بعد تو حالت یہ ہوگئی کہ اُردو کا کوئی بڑا پروگرام ایسا نہیں ہوا جس میں وہ شریک نہ ہوئے ہوں اور اب وہ پوری دلچسپی بھی لیتے ہیں اور ہندی والوں سے زیادہ اُردو والوں کے قریب ہیں۔
ہم خود تو اپنی معذوری کی وجہ سے ان سے نہیں ملے لیکن ہمارے جو قریبی دوست ان سے بہت قریب ہوگئے ہیں انہوں نے بتایا کہ وہ اوپر سے مراٹھی ہیں اندر سے اُردو ہیں۔ اور اگر پانچ سال مزید اُترپردیش کے گورنر رہ گئے تو اُردو میں شعر بھی کہنے لگیں گے ۔
تمہید کے طور پر یہ سطریں اس لئے لکھنا پڑیں کہ وہ ڈاکٹر امبیڈکر کے نام کے معاملہ میں ناسمجھ سیاسی کھلاڑیوں اور ان کی پوجا کرنے والوں کے درمیان موضوع بن گئے ہیں۔ ریاست کے گورنر ہونے کی وجہ سے وہ ہر سرکاری یونیورسٹی کے چانسلر ہیں۔ آگرہ یونیورسٹی کے تقسیم اسناد پروگرام کے دعوت ناموں میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر لکھا دیکھ کر ان کا بیان ہے کہ مجھے تکلیف ہوئی۔ انہوں نے وائس چانسلر کو ہدایت دی کہ ڈاکٹر صاحب کا پورا نام لکھنا چاہئے جو اس طرح لکھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر بھیم راؤ رام جی امبیڈکر۔ مرہٹہ تہذیب میں نام لکھنے کا یہی طریقہ ہے کہ اپنے نام کے بعد والد کا نام پھر سرنیم۔ گورنر صاحب کا کہنا ہے کہ دستور کی بندی کاپی پر دستور بنانے والے تمام ممبروں کے دستخط ہیں اور ڈاکٹر امبیڈکر نے جو دستخط کئے ہیں وہ بھیم راؤ رام جی امبیڈکر ہیں گویا صحیح نام یہی ہوا۔ گورنر صاحب کو اس کی تکلیف ہے کہ ان پر یہ الزام لگا دیا گیا کہ وہ گورنر ہوتے ہوئے سیاست کررہے ہیں۔
اگر آگرہ یونیورسٹی کے دعوت ناموں تک بات محدود رہتی تو کچھ بھی نہ ہوتا لیکن جب وزیر اعلیٰ نے اسے حکم مان کر ہر مورتی پر اور ہر سرکاری جگہ پر پورا نام لکھنا چاہا تو بی جے پی کے ناسمجھ کارکنوں نے یہ محسوس کیا جیسے گورنر صاحب بابا صاحب سے جے شری رام کا نعرہ لگوا رہے ہیں۔ اُترپردیش میں 15 سال کے بعد بی جے پی کی حکومت بنی ہے۔ اس کے کارکن ہر چھوٹی بات کو بڑا کرکے سب کو دکھا رہے ہیں۔ اگر گورنر صاحب نے مشورہ دیا تھا اور حکومت نے اس پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا تھا تو گاؤں گاؤں جو مورتی لگی ہے اس پر کچھ لکھنے کی کارکنوں کو کیا ضرورت تھی؟ جبکہ مایاوتی اور دوسرے دلت لیڈروں اور دوسری پارٹی کے لیڈروں نے اس پر اعتراض شروع کردیئے تھے۔
ڈاکٹر امبیڈکر نے جب سے سناتن دھرم چھوڑکر بودھ دھرم اپنالیا تھا اس وقت سے انہیں ہندو مخالف لیڈر کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ یہ تو ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے اختیار میں نہیں تھا کہ وہ اپنے باپ کا نام بدل دیں لیکن بھیم راؤ امبیڈکر کے بیٹوں اور پوتوں کے اختیار میں ہے کہ وہ ان کا نام کیا بتائیں۔ اپنے ملک میں تو پارٹیوں نے لیڈر بانٹ لئے ہیں ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کی پارٹی کا نام سوشلسٹ پارٹی تھا اب ملائم سنگھ ان کے وارث بن گئے ہیں اور انہوں نے پارٹی کا نام بھی بدل دیا لیکن لوہیا جی ان کے ہیں۔ پنڈت نہرو بلاشبہ ملک کے لیڈر تھے۔ وہ وزیراعظم رہے یا گاندھی جی کے کہنے کے باوجود انہوں نے کانگریس کو نہیں توڑا تو یہ ان کا فعل تھا لیکن وہ کانگریس کے لیڈر ہوکر رہ گئے۔ گاندھی جی کبھی کسی پارٹی کے ممبر نہیں رہے اگر وہ کانگریس کے ممبر رہے ہوتے تو آج نوٹوں پر ان کی تصویر نہ ہوتی۔
ڈاکٹر امبیڈکر کو دلتوں نے اپنا ذاتی لیڈر بنا لیا ہے کانشی رام بھی ان میں ہی ہیں جو امبیڈکر کو ہندوؤں سے الگ لے کر چلتے ہیں وزیراعظم نریندر مودی سردار ولبھ بھائی پٹیل کو قوم کا لیڈر بنانا چاہتے تھے انہوں نے 2014 ء میں ہر گاؤں کے ہر گھر سے لوہے کی بھیک مانگی وہ چاہتے تھے کہ سردار پٹیل کی مورتی جس لوہے سے بنے اس میں پورے ملک کا لوہا شامل ہو لیکن چار سال ہوگئے اس کی تجویز اور باتیں ہی ہوکر رہ گئیں۔ سنا تھا کہ قوم سے مایوس ہوکر انہوں نے چین کو آرڈر دیا ہے اور وہاں بن رہی ہے۔
ہمارا حقیر مشورہ ہے کہ ڈاکٹر امبیڈکر کے نام کے مسئلہ کو مقابلہ کا موضوع نہ بنایا جائے گورنر کی حیثیت خاندان کے بزرگ کی ہوتی ہے انہوں نے وہ بات بتائی جو غیرمراٹھی نہیں جانتے تھے۔ اب اگر کسی کو برا لگتا ہے تو وہ نہ لکھے اور حکومت بھی ضد نہ کرے بلکہ حکومت ڈاکٹر صاحب کی ان مورتیوں کی حفاظت کرے جو مس مایاوتی نے اپنے زمانہ میں بلاضرورت سیکڑوں کی تعداد میں لگوادی ہیں۔ جبکہ مورتیاں جتنی کم ہوں گی ان کی اتنی ہی عزت ہوگی اور جتنی زیادہ ہوں گی اتنی ہی ناقدری ہوگی۔(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ) 
14؍اپریل2018(ادارہ فکروخبر)

متعلقہ مضامین

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا