غریبوں کی محرومی اور امیروں کی دولت بڑھ رہی ہے

share with us

 

عارف عزیز(بھوپال)

 دنیا میں غربت کے خاتمے اور سماجی انصاف کے لئے سرگرم ایک برطانوی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا میں امیر اور غریب طبقات کے درمیان خلیج میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور آئندہ سال کے اختتام تک ایک فیصد طبقے کے پاس دنیا کی باقی ۹۹ فیصد آبادی سے زیادہ دولت ہوگی۔ برطانوی تنظیم ’’آکسفام‘‘ نے جاری کی جانے والی اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا ہے کہ ۲۰۰۹ء میں یہ ایک فیصد بااثر طبقہ دنیا کی ۴۴ فیصد دولت کا مالک تھا اور یہ دولت ۲۰۱۴ء میں ۸۴ فیصد تک جاپہنچی تھی۔ اس متمول طبقے کے برعکس دنیا کی ۸۰ فیصد آبادی صرف ۵ء۵ فیصد دولت کی مالک ہے اور اپنی اس متاع قلیل سے تیزی سے محروم ہورہی ہے۔ ’’آکسفام‘‘ کے مطابق اگر دولت کی تقسیم کی موجودہ شرح برقرار رہی تو ۲۰۱۶ء کے اختتام تک دنیا کے ۵۰ فیصد سے زائد دولت ایک فیصد امیر طبقے کے ہاتھوں میں جاچکی ہوگی۔ ’’آکسفام انٹرنیشنل‘‘ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر دمی بیانیما کے مطابق ۲۰۰۸۔۲۰۰۹ء کے اقتصادی بحران کے بعد بین الاقوامی معیشت میں دولت کے ارتکاز میں تیزی آئی ہے جو اب خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے۔ برطانوی اخبار ’’گارجین‘‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں امدادی ادارے کے سربراہ نے کہا کہ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے نتیجے میں دنیا میں طبقاتی تفریق بڑھ رہی ہے جس کی روک تھام کے لئے حکومتوں کو فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ بیانیما کے بقول یہ طبقاتی تفریق معاشرتی ناہمواری اور نظام حکومت کے لئے مسائل کھڑے کرسکتی ہے کیونکہ دولت کے ارتکاز کے نتیجے میں ایک مخصوص طبقہ بتدریج طاقت پکڑ رہا ہے اور عوام کے مفادات اور مسائل سے اس کی بے نیازی میں اضافہ ہورہا ہے۔
اپنے انٹرویو میں دمی بیانیما نے کہا ہے کہ عالمی رہنماؤں اور عوام کو سوچنا ہوگا کہ کیا واقعی ہم ان حالات میں جینا چاہتے ہیں جہاں بمشکل ایک فیصد طبقہ دنیا کی باقی ننانوے فیصد آبادی سے زیادہ وسائل کا حامل ہو اور امیر اور غریب کے درمیان موجود خلیج روز بروز بڑھ رہی ہو؟ انہوں نے کہا کہ دنیا میں حد سے تجاوز کرتی ہوئی معاشی عدم مساوات نہ تو حادثاتی ہے اور نہ ہی نظام معیشت کا کوئی لازمی نتیجہ ہے۔ بلکہ ان کے بقول، یہ حکومتوں کی ماضی کی روش کا شاخسانہ ہے جسے ذرا مختلف حکمتِ عملی اختیار کرکے گھٹایا بھی جاسکتا ہے۔ ’’آکسفام‘‘ نے گزشتہ برس اسی نوعیت کی اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ صرف پچاسی امیر ترین افراد دنیا کی نصف غریب ترین آبادی (ساڑھے تین ارب نفوس) کے برابر دولت رکھتے ہیں۔ تنظیم کے مطابق اس سال کی تحقیق میں یہ تعداد مزید کم ہوگئی ہے اور اب دنیا کے اسی امیر ترین افراد کے پاس دنیا کی نصف آبادی سے زیادہ دولت ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ۲۰۱۰ء میں دنیا کی نصف آبادی کے برابر دولت کے مالک امیر افراد کی تعداد ۳۸۸ تھی۔ تحقیق سے یہ حقیقت بھی واضح ہوئی ہے کہ امیروں کی دولت کا ایک پیڑھی سے دوسری پیڑھی میں منتقل ہونا معمول ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دولت دنیا کے محروم طبقات کی محرومی اور غربت دور کرنے میں استعمال نہیں ہورہی، تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دنیا کے ۶۴۵ ارب پتی لوگوں میں ایک تہائی کو ان کی دولت کا بیشتر حصہ وراثت میں ملا ہے۔

مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہوناضروری نہیں ۔ 
13؍ مارچ 2017
ادارہ فکروخبر بھٹکل 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا