dushwari

بیٹیوں کے نام

ڈاکٹر سلیس سلطانہ چغتائی

میری پیاری بیٹیوں آج جب مجھے اپنی بیٹیوں کو مخاطب کرنا اچھا لگ رہا ہے۔ بیٹیاں تو ہر وقت ماں کی محبت اور قربانیوں کا راگ الاپتی رہتی ہیں۔ مگر خود بیٹیاں ساری زندگی ماں باپ کی اطاعت و فرمانبرداری میں گزار دیتی ہیں اور اس خوبی کو بھی ماں کی تربیت سے منسوب کر دیتی ہیں۔ میرے بچوں مجھے یہ کہتے ہوئے قطعا جھجک محسوس نہیں ہوتی کہ میرے بچے مجھ سے بہت بہتر ہیں میں شاید ہمیشہ سے بزدل، شرمیلی، ڈرپوک اور اپنا ہر حق دوسرے کو دے دینے میں خوشی محسوس کرنے والی تھی۔

مگر میرے بچے بہادر حوصلہ مند، اپنا حق لینے اور فرض کو تندہی سے ادا کرنے والے ہیں۔ مجھے فخر ہے کہ میں تمہاری ماں ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے سورہ تکویر میں یہ آیت پڑھی: جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی تو میں تھر تھرا گئی۔ اللہ تعالی کے نزدیک ایسے ماں باپ جو زمانہ جاہلیت میں اپنی بیٹیوں کو صرف اس لیے زندہ دفن کر دیا کرتے تھے کہ ان کو جوان ہونے تک پالنا پڑے گا ور اپھر انہیں بیاہ دینا ہو گا۔ قبائلی جنگوں میں ان کی حفاطت کرنا پڑے گی۔ دشمن قبیلے کے چھاپے کے دوران جو لڑکیاں ان کے ہاتھ لگتی تھی انہیں لے جا کر وہ لونڈیاں بنا لیتیتھے یا کہیں بیچ ڈالتے تھے۔ اس لیے زچگی کے وقت عورت کے آگے ایک گڑھا کھود کر رکھا جاتا تھا کہ اگر لڑکی پیدا ہو تو اسی وقت اسے گڑھے میں پھینک کر مٹی ڈال دی جائے۔ اور کبھی اگر ماں اس پر راضی نہ ہوتی یا اس کے خاندان والے اس کا دفاع کرتے تو باپ بادل نخواستہ اسے کچھ مدت تک پالتا اور پھر کسی وقت صحرا میں لے جا کر دفن کر دیتا۔ ایک شخص نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے عہد جاہلیت کا یہ واقعہ بیان کیا کہ میری ایک بیٹی تھی جو مجھ سے بہت مانوس تھی جب مین اس کو پکارتا دوڑی دوڑی میرے پاس آتی تھی۔ ایک روز میں نے اس کو بلایا اور اپنے ساتھ لے کر چل پڑا۔ راستہ میں ایک کنواں آیا میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کنوئیں میں دھکا دے دیا۔ آخری آواز جو اس کی میرے کانوں میں آئی وہ تھی ہائے ابا، ہائے ابا۔ یہ سنکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رو دیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بہنے لگے۔ حاضرین میں سے ایک نے کہا اے شخص تو نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غمگین کر دیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیفرمایا اسے مت روکو۔ جس چیز کا اسے سخت احساس ہے اس کے بارے میں اسے سوال کرنے دو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا قصہ پھر بیان کر۔ اس نے دوبارہ بیان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن کر اس قدر روئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاہلیت میں جو کچھ ہو گیا اللہ نے اسے معاف کر دیا۔ اب نئے سرے سے اپنی زندگی کا آغاز کر۔
میرے اللہ کا یہ بڑا احسان ہے اور اسلام کی بہت بڑی برکت ہے کہ اس نے بیٹی کو رحمت قرار دیا۔ اور ان کی پرورش کرنا ان کی عمدہ تعلیم و تربیت کرنا انہیں بیٹوں کی طرح کھلانا پلنا نیکی کا کام ہے۔ آج کا دن میں دنیا کی ان تمام بیٹیوں کے نام منسوب کرنا چاہتی ہوں جن کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کی آگ سے بچاؤ کا ذریعہ قرار دیا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کی گئی ہیں کہ جو شخص ان لڑکیوں کی پیدائش سے آزمائش میں ڈالا جائے اور پھر وہ ان سے نیک سلوک کرے تو وہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے بچاؤ کا ذریعہ بنیں گے۔ صحیح مسلم میں ارشاد نبوی ہے جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہو گئیں تو قیامت کے روز میرے ساتھ وہ اس طرح آگئے یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو جوڑ کر بتایا۔ ایک اور حدیث میں ارشاد ہوا جس شخص نے تین بیٹیوں یا بہنوں کی پرورش کی۔ ان کو اچھا ادب سکھایا اور ان سے شفقت کا برتاؤ کیا یہاں تک کہ وہ ان کی مدد کی محتاج نہ رہیں تو اللہ اس کے لیے جنت واجب کر دے گا۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ اور دو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ار دو بھی۔ حدیچ کے روایت کرنے والے حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ اگر لوگ اس وقت ایک کے متعلق پوچھتے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں بھی یہی فرماتے۔ ابو داؤد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ان الفاظ میں ہے: جس کے ہاں لڑکی ہو اور وہ اسے دفن نہ کرے نہ ذلیل کر کے رکھے نہ بیٹے کو اس پر ترجیح دے اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔
صحیح بخاری اور ابن ماجہ کی حدیث ہے کہ جس کے ہاں تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان پر صبر کرے اور اپنی حیثیت کے مطابق ان کو اچھے کپڑے پہنائے تو وہ اس کے لیے جہنم کی آگے سے بچاؤ کا ذریعہ بنیں گی۔ جس مسلمان کے ہاں دو بیٹیاں ہوں اور وہ ان کو اچھی طرح رکھے وہ اسے جنت میں پہنچائیں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق یافتہ یا بیوہ بیٹی کی کفالت کو سب سے بڑا صدقہ قرار دیا۔
میرے معبود کا یہ احسان ہے کہ اس نے مجھے نعمت اور رحمت دونوں سے نوازا۔ میں نے انہیں اپنی کم علمی، کم متی کے باوجود احترام انسانیت کا سبق دیا۔ محبت برتنا اور محبت کرنا سکھایا۔ نہ صرف مجھ سے بلکہ اللہ کی ساری مخلوق سے خواہ وہ انسان ہو یا جانور۔ مجھے اس بات کے کہنے میں کوئی شرمندگی نہیں کہ میرے بچے مجھ سے بہت اچھے ہیں۔ خدا کرے کے اللہ کی نظر میں بھی سرخرو ہوں۔ میری ہمیشہ یہی کوشش رہی کہ میں اپنیبچوں مین وہ تمام خوبیاں پیدا کروں کو حضرت خدیج الکبری، حضرت عائشہ، حضرت فاطم الزہرہ میں ہیں۔ میں ان تمام کوتاہیوں پر شرمندہ ہوں تم سب سے جو تم تک پہنچیں میرے توسط سے تمہاری خدمتوں اور اطاعتوں کا اللہ صلہ دینے والا ہے۔ ماں تو صرف دعا ہی دے سکتی ہے۔ میری تو ہر سانس میں تم سب کے لیے صرف دعائیں ہیں۔ صرف دعائیں۔ دنیا کی تمام بیٹیان تم سب اسی طرح اپنی ماؤں سے دعائیں لیتی رہو۔ جب کیونکہ تم سب اس کی اہل ہو۔ اپنی خدمت اپنی اطاعت کی بنا پر۔ جب ننھی ننھی پریاں ہوتی ہو تو اپنے پھولوں جیسے لہجے سے ماں باپ کو خوش کرتی ہو جب بڑی ہوتی ہو تو مجسم الطاعت بن جاتی ہو۔ جب پرائے گھر جاتی ہو تو ہر یہ خیال رہتا ہے کہ سسرال کی خدمت میں کوئی کمی نہ ہر جائے کہ کوئی یہ کہہ دے کہ ماں نے کیسی تربیت کی ہے ماں کا نام اونچا رکھنے کے لیے ہر آن سب کی باتیں سنتی ہو۔ دل پر بہت سی ناگوار چیزیں سہتی ہو۔مگر زبان بند رکھ کر خاموشی کا قفل ڈال لیتی ہو۔ میکے کے نام کے طعنے برداشت کرتی ہو شوہروں کی سخت زبانی کی کبھی ماں سے شکایت نہیں کرتیں کہ ماں کو اذیت نہ ہو۔ تم سب(ساری دنیا کی بیٹیاں)ایک جیسی ہو۔ کیونکہ تم سب ماں کی بیٹیاں ہو۔ ہر چلن میں اپنی اپنی ماؤں کا عکس۔ میری دلی دعائیں ان تمام بیٹیوں کے لیے ہیں جو اپنی ماؤں کی خدمت کر رہی ہیں۔ مسلسل اور بغیر کسی معاوضے اور کسی احسان کے۔ جو والدین کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ جاتی ہیں ہاتھ سے پاؤں سے روپے پیسے سے ان کی خدمت کرنے کے لیے بے قرار رہتی ہیں۔ دنیا بھر کی بیٹیاں سلامت رہیں۔ ان کی زندگی میں کبھی کوئی دکھ نہ آئے۔ وہ ہمیشہ مسکراتی کھلکھلاتی رہیں۔ ان کی دنیا اور آخرت دونوں اچھی رہے۔ ان کی آنکھوں میں کبھی غم کی جھلک نہ آئے۔ ان کے رخسار خوشیوں سے چمکتے رہین۔ تم کو کبھی کہیں بھی کوئی غم نہ سہنا پڑے۔ تمہاری دعاگو ماں۔