Live Madinah

makkah1

dushwari

تہران میں اہل سنت مسلک کی اکلوتی مسجد شہید کر دی گئی(مزید اہم ترین خبریں )

علماء اور شہریوں کا شدید احتجاج

دبئی ۔ 30جولائی(فکروخبر/ذرائع)ایران کے دارالحکومت تہران کی ضلعی حکومت نے بلدیہ میں قائم اہل سنت والجماعت مسلک کے مسلمانوں کی اکلوتی مسجد کو شہید کردیا جس پر مقامی علماء اور شہریوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بدھ کے روز تہران بلدیہ نے پولیس کی حمایت سے بلدیہ میں قائم سنی مسلمانوں کی مسجد کو بلڈوزروں کی مدد سے گرا دیا۔ تہران حکومت کی اس اشتعال انگیز کارروائی کے خلاف سنی اکثریتی صوبہ بلوچستان کی مرکزی جامع مسجد کے امام وخطیب مولوی عبدالحمید اسماعیل زئی نے رہبر انقلاب اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں ان سے مسجد کی شہادت پر سخت احتجاج کیا ہے۔نیوز ویب پورٹل"سنی ان لائن" کی رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز تہران بلدیہ کے اہلکاروں نے پولیس کے ہمراہ بونک کے مقام پر واقع اکلوتی مسجد کا گھیرائو کیا۔

مسجد کی مسماری سے قبل اسی مسجد کے امام مولوی عبیداللہ موسیٰ زادہ کے گھر پرچھاپہ مارا کر جامہ تلاشی لی گئی۔ بعد ازاں بغیر کسی اطلاع اور وجہ بتائے مسجد کو شہید کردیا۔ مسجد کی شہادت کے خلاف سنی مسلمانوں نے سخت احتجاج کیا ہے۔تہران بلدیہ کے اشتعال انگیز اقدام کے رد عمل میں بلوچستان کی مرکزی جامع مسجد کے امام وخطیب مولوی عبدالحمید اسماعیل زئی نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں ان سے مسجد کی شہادت پرسخت احتجاج کرتے ہوئے مسجد کی فوری تعمیر کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے مکتوب میں لکھا ہے کہ تہران بلدیہ کی جانب سے مسجد کی شہادت کا یہ قابل مذمت واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب عالم اسلام پہلے ہی انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی آگ میں جل رہا ہے۔ ایسے میں کسی خاص مسلک کی عبادت گاہ کو نشانہ بنانا فرقہ واریت کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔ اس اقدام سے تہران بلدیہ نے انتہا پسندوں اور ملک دشمن عناصر کو اپنی تخریبی کارروائیوں کا نیا جواز فراہم کیا ہے۔تہران بلدیہ کی شہید کی جانے والی جامع مسجد ماضی میں ایرانی حکام کی دست برد کا نشانہ بنتی رہی ہے۔ چند ماہ قبل ایرانی پولیس نے مسجد میں مقامی سنی شہریوں کا داخلہ روک دیا تھا۔ تاہم بعد ازاں نماز جمعہ اور عید کی نمازوں کے علاوہ دیگر نمازوں کے لیے مسجد کھول دی گئی تھی۔


مالی بحران یا بدمعاشی؟ 'یو این' کے زیرانتظام فلسطینی تعلیمی ادارے بند

غزہ۔30جولائی(فکروخبر/ذرائع)اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والے ادارے"اونروا" نے فنڈز کی عدم دستیابی کا بہانہ بناتے ہوئے غزہ کی پٹی اور فلسطین سے باہر پناہ گزین کیمپوں میں قائم تعلیمی ادارے بند کردیے ہیں۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق "اونروا" کے ترجمان سامی مشعشع نے کہا کہ ان کا تعلیمی ادارے بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں مگران کے پاس اسکولوں اور کالجوں کا نظام چلانے کے لیے فنڈز موجود نہیں ہیں۔ جب تک فنڈز دستیاب نہیں ہوجاتے اس وقت تک تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ اس وقت غزہ کی پٹی اور لبنان میں فلسطینی پناہ گزین کیمپوں میں قائم اسکولوں میں نئے سال کی تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی فوری ضرورت ہے۔ ہم نے عالمی برادری اور امداد دینے والے ممالک سے کہا ہے کہ وہ "اونروا" کی مدد کریں اور مشکل وقت میں تعلیمی اداروں کو چلانے کے لیے بروقت فنڈز فراہم کریں تاہم فنڈز نہ ملنے کی صورت میں وسط اگست سے نئے سال کی تعلیمی سرگرمیاں شروع نہیں کی جاسکیں گی اور ہمیں اسکول بند کرنے کے مشکل فیصلے پرعمل درآمد پرمجبور ہونا پڑے گا۔ایک سوال کے جواب میں مشعشع کاکہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل تک بات پہنچا دی گئی ہے۔ انہوں نے عالمی رہ نماؤں سے اس حوالے سے بات کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور کہا ہے کہ وہ "اونروا" کو درپیس مالیاتی بحران کے حل میں مدد فراہم کرنے کیلیے ہرممکن اقدامت کریں گے۔خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے زیرانتظام غزہ کی پٹی اور فلسطین سے باہر فلسطینی پناہ گزین کیمپوں میں قائم اسکولوں میں ہزاروں بچے زیرتعلیم ہیں لیکن حال ہی میں "اونروا" کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی کا بہانہ بناتے ہوئے اسکول نہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ "اونروا" کو مالیاتی بحران کا سامنا نہیں۔ یہ محض ڈرامہ اور فلسطینیوں کے ساتھ سیاسی منافقت کی چال چلنا ہے۔ یو این ریلیف ایجنسی خاص طورپر غزہ کی پٹی کے اسکولوں میں زیرتعلیم بچوں کو سیاسی انتقام کی بھینٹ چڑھا رہی ہے۔


سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں: فلسطینی پارلیمنٹ کی رام اللہ اتھارٹی پرکڑی تنقید

غزہ۔30جولائی(فکروخبر/ذرائع)فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں رام اللہ اتھارٹی کے زیرکمانڈ سیکیورٹی اداروں کے ہاتھوں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی گرفتاریوں پر فلسطینی مجلس قانون ساز نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گرفتار کیے گئے تمام کارکنوں کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بدھ کے روز فلسطینی مجلس قانون ساز کا اجلاس غزہ کی پٹی میں ڈپٹی اسپیکر ڈاکٹر احمد بحر کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں غرب اردن میں سیاسی جماعتوں کے خلاف عباس ملیشیا کے کریک ڈاؤن کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے "سنگین جرم" قرار دیا گیا۔ڈاکٹر احمد بحر نیا جلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غرب اردن میں جاری پکڑ دھکڑ جمہوریت اور قومی مفاہمتی پالیسی سے انحراف کا واضح ثبوت ہے۔ فلسطینی اتھارٹی صہیونی ریاست کی خوش نودی کے لیے سیاسی کارکنوں کے گرد گھیرا تنگ کررہی ہے جس کا کوئی آئینی یا اخلاقی جواز نہیں ہے۔بعد ازاں پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کا الگ سے بھی اجلاس ہوا جس میں غرب اردن میں سیاسی جماعتوں کے خلاف عباس ملیشیا کے وحشیانہ کریک ڈاؤن کو انسانی حقوق اور جمہوری آزادیوں کے خلاف سازش قراردیا گیا۔خیال رہے کہ فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام سیکیورٹی اداروں نے اسلامی تحریک مزاحمت "حماس" اور اسلامی جہاد کے کارکنوں کے خلاف وحشیانہ کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے۔ پچھلے ایک ماہ میں حماس کے اڑھائی سو سے زائد کارکنوں کو جب کہ اسلامی جہاد کے کئی ارکان کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔


اسرائیلی ہٹ دھرمی، مزید 800 غیرقانونی مکانات کی تعمیر کی منظوری

مقبوضہ بیت المقدس۔30جولائی(فکروخبر/ذرائع)عالمی برادری کی شدید مخالفت کے باوجود صہیونی ریاست نے کھلی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس اور غرب اردن میں مزید 800 مکانات کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین نے اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ وزیراعظم بنجمن نتین یاھو کی کابینہ نے بدھ کے روز پیش کیے گئے ایک بل کی منظوری دی جس میں 500 مکانات مشرقی بیت المقدس اور 300 مقبوضہ مغربی کنارے میں تعمیر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ غرب اردن میں مکانات رام اللہ کے مشرق میں قائم"بیت ایل" کالونی میں تعمیر کیے جائیں گے۔عبرانی نیوز ویب پورٹل" 0404 " کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں 500 مکانات تین مختلف کالونیوں میں بنائے جائیں گے۔ ان میں "ریموت" کالونی میں 300 ، "گیلو" میں 70 ، "جبل ابوغنیم" میں 19 جب کہ ایک سو سے زائد مکانات "بسگات زئیو" نامی کالونی میں تعمیر کیے جانے کی منظوری دی گئی ہے۔اسرائیلی وزیر تعلیم "نفتالی بینٹ نے کابینہ کی جانب سے غرب اردن میں مزید مکانات کی تعمیر کی منظوری کو خوش آئند قراردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ "بیت ایل" کالونی میں یہودیوں کے دو مکانات مسمار کرنے کے عدالتی فیصلہ کا رد عمل ہے۔خیال رہے کہ اسرائیلی سپریم کورٹ نے منگل کے روز "بیت ایل" کالونی میں یہودیوں کیدو مکانات کو غیرقانونی قراردے کران کی فوری مسماری کا حکم دیا تھا۔


اسرائیل کو کٹہر ے میں لانے کے لیے تاخیری حربے استعمال نہ کیے جائیں :حماس

غزہ۔30جولائی(فکروخبر/ذرائع)اسلامی تحریک مزاحمت "حماس" نے فلسطینی اتھارٹی پر زور دیا ہے کہ وہ منظم جنگی جرائم کے مرتکب صہیونیوں کو عالمی عدالت انصاف کے کہٹرے میں لانے کے لیے تاخیری حربوں سے کام نہ لے۔ حماس کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے سنگین جنگی جرائم کے ٹھوس اور ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ اس لیے اب مقدمات کے قیام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ "ایمنسٹی انٹرنیشنل صہیونی ریاست کو سنہ 2014 ء میں غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی اکاون روزہ جنگ میں منظم جنگی جرائم میں قصور وار ٹھہرا چکی ہے۔ عالمی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں شواہد کی بنیاد پر بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نہتے فلسطینی شہریوں پر فضائی اورزمینی حملے کرتی رہی ہے۔ دانستہ طورپر گھروں سے فرار ہونے والے خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا جاتا اور زخمیوں کو لے اسپتالوں میں منتقل کرنے والی ایمبولینسوں پر بمباری کی جاتی رہی ہے۔ ایمنسٹی کی جانب سے غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے منظم جنگی جرائم کے بارے میں یہ ٹھوس ثبوت صہیونی ریاست کے خلاف مقدمات کے قیام کے لیے کافی ہیں۔ اس کے بعد فلسطینی اتھارٹی کو صہیونی جنگی مجرموں کو عالمی عدالت کے کہٹرے میں لانے میں تاخیر سے کام نہیں لینا چاہیے"۔خیال رہے کہ حال ہی میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم"ایمنسٹی انٹرنیشنل" کے لندن میں قائم صدر دفتر سے غزہ کی پٹی پر جولائی اور اگست 2014 ء کے دوران مسلط کی گئی اسرائیلی جنگ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ غزہ جنگ میں بالعموم اور رفح شہر میں بالخصوص اسرائیلی فوج کے فلسطینیوں کے خلاف منظم جنگی جرائم کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران اسپتالوں، اسکولوں، پناہ گزین کیمپوں اور پارکوں میں کھیلتے بچوں کو بمباری سے نشانہ بنانا سنگین جنگی جرم ہے اور اسرائیلی فوج نے یہ جرائم کئی بار کیے ہیں۔یاد رہے کہ جولائی اور اگست 2014 ء کو اسرائیل نے اکاون دن تک غزہ کی پٹی پر وحشیانہ فضائی، زمینی اور بحری حملے کرکے 2324 فلسطینیوں کو شہید اور گیارہ ہزار سے زائد افراد کو زخمی کردیا تھا۔ بمباری کے نتیجے میں ہزاروں مکانات، اسکول، اسپتال، مساجد اور سرکاری دفاتر کو تباہ کیا گیا۔


عباس ملیشیا کا کریک ڈاؤن، حماس کے آٹھ کارکن گرفتار، متعدد کی حراست میں توسیع

رام اللہ۔30جولائی(فکروخبر/ذرائع)فلسطینی اتھارٹی کی ماتحت سیکیورٹی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے میں تلاشی کی کارروائیوں میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس" کے کم سے کم آٹھ ارکان کو حراست میں لینے کے بعد انہیں پولیس اسٹیشنز میں منتقل کردیا ہے۔ دوسری جانب حراست میں لیے گئے کئی سیاسی کارکنوں کو بغیر کسی الزام کے مزید کئی روز کے لیے پابند سلاسل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بدھ کے روز عباس ملیشیا کے اہلکاروں نے بیت المقدس کے تکنیکی شعبے سے تعلق رکھنے والے چھ افراد کو بھی حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے گئے افراد رام اللہ میں مقامی صحافی محمد عوض کی شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے۔عینی شاہدین نے بتایا کہ بیت المقدس سے آئے فن کاروں کو حراست میں لینے کے بعد ان کا سامان بھی ضبط کرلیا گیا ہے۔خیال رہے کہ صحافی محمد عوض کو ایک ماہ قبل فلسطینی اتھارٹی کی جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ اسے دو ماہ تک قید میں رکھنے کے دوران وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔نابلس میں عباس ملیشیا نے تلاشی کے دوران حماس سے تعلق کے الزام میں ایک سرکردہ رہ نما الشیخ احمد عاطف کو حراس میں لے لیا۔ جب کہ نابلس سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکن معاذ ابو عیشہ کو مزید پندرہ دن کے لیے حراستی مرکز میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔طوباس میں تلاشی کی کارروائی میں 18 سالہ موسیٰ خریوش کو حراست میں لے لیا گیا۔ موسیٰ کے والد علی خریوش ایک مقامی رہ نما ہیں جنہیں کچھ ہی روز عباس ملیشیا کی جیل سے رہا کیا گیا تھا۔


اسرائیل کے وزیر اعظم نے ایران پر پانچ براعظموں میں دہشتگرد گروہوں کا نیٹ ورک بچھانے کا الزام لگا دیا

تل ابیب۔30جولائی(فکروخبر/ذرائع)اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے ایران اور لبنان کی شیعہ تحریک "حزب اللہ" پر الزام لگایا ہے کہ وہ پانچ بر اعظموں میں دہشتگرد گروہوں کا نیٹ ورک بچھا رہے ہیں۔ یہ بات بنیامن نتن یاہو نے دورہ قبرص کے دوران کہی۔قبرص میں مئی کے مہینے میں پولیس نے دو ٹن کیمیائی مواد برآمد کیا تھا جو بم کی تیاری کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں "حزب اللہ" سے وابستہ 26 سالہ لبنانی شہری کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔"ایران اور "حزب اللہ" نے دنیا کے پانچ بر اعظموں میں 30 سے زیادہ ممالک میں دہشتگردی کا نیٹ ورک پھیلا چکے ہیں، اس نیٹ ورک کی شاخیں تقریباً ہر یورپی ملک میں موجود ہیں"، اسرائیل کے وزیر اعظم نے قبرص کے صدر سے ملاقات کے دوران کہا۔ اس کے علاوہ بنیامن نتن یاہو نے ایران اور حزب اللہ کی مخالف تنظیم داعش کو ساری دنیا کے لئے خطرہ قرار دیا۔"اسلامی انتہا پسندی سب سے زیادہ خطرناک ہے، شیعہ انتہا پسندوں کا رہنما ایران ہے، اور سنی شدد پسندوں کے لیڈر داعش ہیں"، بنیامن نتن یاہو نے کہا۔


اسرائیلی جیل"ریمون" میں کشیدگی، قیدیوں نے بیرکیں بند کر دیں

رام اللہ۔30جولائی(فکروخبر/ذرائع)فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں قائم اسرائیل کی "رامون" نامی جیل میں فلسطینی قیدیوں اور اسرائیلی جیلروں کے درمیان کشیدگی کے بعد اسیران نے جیل کی تمام بیرکیں بند کردیں۔انسانی حقوق کی تنظیم"کلب برائے اسیران" کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ "ریمون" جیل میں کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب قابض فوجیوں نے قیدیوں پر بلا وجہ تشدد کرنا شروع کیا۔ قیدیوں نے بہ طور احتجاج اپنی تمام بیرکیں بندکردیں جس کے بعد اسرائیل کی "مسٹاڈا" یونٹ کے اہلکاروں کو واپس جانا پڑا۔واضح رہے کہ "ریمون" جیل میں مجموعی طورپر سات بیرکیں ہیں۔ اس سے قبل اسی طرح کی کشیدگی مغربی کنارے کی "نفحہ" جیل میں بھی سامنے آچکی ہے۔


امریکا کا اسرائیل کو خطرناک جنگی طیارے "ایف 35" فراہم کرنے کا فیصلہ

مقبوضہ بیت المقدس۔30جولائی(فکروخبر/ذرائع)اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی وزیردفاع ایشٹن کارٹر نے اسرائیلی فوج کو جلد از جلد جدید ترین "ایف 35 " لڑاکا طیارے فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔طیاروں کے استعمال کے لیے ایک نئے ہوائی اڈے کیقیام کے ساتھ ساتھ فضائیہ کے اہلکاروں کو ان کے استعمال کی ٹریننگ دینے کا عمل بھی جاری ہے۔عبرانی اخبار"معاریف" نے بتایا ہے کہ "امریکا نے جلد ہی اسرائیلی فضائیہ کو "ایف پینتیس" جنگی طیاروں سے لیس کرنے کے لیے فوج کو ان کی تربیت دینا شروع کردیا ہے۔ اس سلسلے میں جلد ہی اسرائیلی فضائیہ میں نیا فلائیٹ اسکواڈرن تیار ہوجائے گا جو ان طیاروں کے استعمال کرسکے گا۔اخباری رپورٹ کے مطابق امریکی ماہرین "ایف 35 " جنگی طیاروں کو اڑانے کی تربیت کا سلسلہ کئی ماہ سے دیتے آرہے ہیں۔ تربیتی عمل "نفاطیم" نامی ایک فوجی اڈے پر جاری ہے اور اسی اڈے کو ان ہوائی جہازوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے اسرائیل کے وزیردفاع ایشٹن کارٹرنے اسرائیل کا دورہ کیاتھا۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے اسرائیل کی تمام دفاعی ضروریات پوری کرنے میں صہیونی ریاست کی بھرپور مدد کی یقین دہانی کرائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو جلد ہی "ایف 35 " طیارے فراہم کردیے جائیں گے۔ امریکا کے جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس یہ طیارے حاصل کرنے والا اسرائیل مشرق وسطیٰ کا پہلا ملک بن جائے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ "ایف 35 " نامی جنگی طیارے اس وقت دنیا کے جدید ترین لڑاکا طیارے ہیں جو نہ صرف انتہائی بلندی سے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ یہ خود کو راڈار سے چھپا سکتے ہیں۔ راڈار سے بچ کر نکل جانا ان طیاروں کی اہم ترین کامیابی ہے۔ یہ طیارے پینتیس ہزار فٹ کی بلندی سے بمباری کرکے ہدف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔


بیت المقدس میں فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کی صہیونی پالیسی جاری

مقبوضہ بیت المقدس۔30جولائی(فکروخبر/ذرائع)فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کیہاتھوں فلسطینیوں کے مکانات، دکانوں اور دیگر عمارتوں کی مسماری کا ظالمانہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ دوسری جانب بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے فلسطینی بچوں کو قبلہ اول میں داخلے سے روکنے کے لییانہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیت المقدس میں مسلسل دوسرے روز بھی بغیر کسی پیشگی نوٹس کے فلسطینیوں کے مکانات مسمار کیے گئے۔ منگل کے روز قابض فوجیوں نے سلوان کے مقام پر فلسطینی شہریوں کا ایک مکان، ایک گودام ور ایک دکان بغیر کسی پیشگی اطلاع کے مسمار کردی تھیں۔ کل بدھ کو سلوان ہی کے مقام پر"وادی الدم" میں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے فلسطینی شہریوں کے ملکیتی 400 مربع میٹر پربنے مکانات اور دکانیں مسمار کرڈالیں۔ ان میں سے دوس مربع میٹر بیت المقدس کی جب کہ دو سو مربع میٹر غرب اردن کے لینڈ ریکارڈ میں رجسٹرڈ ہے۔ اس کے علاوہ ایک بڑا ہال جس کی وسعت 500 مربع میٹرتھی کو بھی مسمار کردیا گیا۔ایک مقامی شہری سمیر الشخشیر نے "قدس پریس" کو بتایا کہ جب وہ علی الصباح اٹھے تو انہوں نے صنعتی علاقیمیں حال ہی میں مکمل ہونے والے ایک رہائشی پلازے کو مسمار کرتے دیکھا۔ اس پلازے میں 15 فلسطینی خاندانوں کو آباد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا مگر ابھی ہم اسے استعمال نہیں کرپائے تھے کہ قابض فوجیوں نے بغیر کسی پیشگی نوٹس یا اطلاع کہ اسے مسمار کرڈالا۔مسمار کیے گئے مکان کے مالک غازی یاسین نے بتایا کہ انہوں نے اس جگہ پر پہلی مرتبہ سنہ 1995 ء میں ایک چھاپہ خانہ قائم کیا تھا۔ یہ جگہ ان کی آبائی ملکیت اور وراثت ہے لیکن قابض اور اسرائیلی بلدیہ ان سے یہ جگہ ہرصورت میں چھیننا چاہتے ہیں۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق موسم گرما کی تعطیلات کے دوران مسجد اقصیٰ کی انتظامیہ کی طرف سے قبلہ اول میں بچوں کی دینی تعلیم کے لیے گرمائی کیمپ لگائے جاتے ہیں۔ امسال بھی ان کا اہتمام کیا گیا تھا، لیکن اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے گرمائی کیمپوں کو فلسطینی بچوں کوانتہا پسندی کی تعلیم دلوانے کی سازش قراردینے کے بعد اسرائیلی فوج اور پولیس کو ان کے پیچھے لگا دیا ہے۔گذشتہ روز اسرائیلی فوجیوں نے مسجد اقصیٰ میں آنے والے بچوں کو مراکشی دروازے کے باہر روک لیا۔ انہیں کہا گیا کہ وہ قبلہ اول میں داخل نہیں ہوسکتے اور نہ ہی مسجد کیاندر ہونے والی کسی سرگرمی میں انہیں حصہ لینے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔قبل ازیں اسرائیل کے عبرانی ٹی وی 10 نے اپنی رپورٹ میں روایتی منفی پروپیگنڈے سے کام لیتے ہوئے کہا تھا کہ مسجد اقصیٰ میں جاری گرمائی کیمپوں کی آڑ میں فلسطینی بچوں کے ذہنوں میں اسرائیل کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور انتہا پسندانہ تعلیمات دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔مسجد اقصیٰ میں منعقد ہونے والے گرمائی تربیتی کیمپ کے ایک نگران الشیخ خالد المغربی نے بتایا کہ بچوں کو انتہا پسندی یا اسرائیل کے خلاف نفرت کی تعلیم ہم تو نہیں دیتے تاہم صہیونی انتظامیہ بالخصوص فوج اور پولیس کا ظالمانہ طرز عمل ہی اس کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو گرمائی کیمپوں میں شرکت پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دے کرانہیں قبلہ اول سے دور رکھنے کی سازش کی جاتی ہے۔ یہ اصل نفرت اور انتہا پسندی ہے۔ ہم بچوں کو مذہبی تعلیم دیتے ہیں۔ ان کے عقائد اورعبادات کی اصلاح کی جاتی ہے اور انہیں شرعی فرائض وواجبات سے اگاہ کیا جاتا ہے۔


حکومت افغانستان نے ملا عمر کی موت کی تصدیق کردی

کابل۔30جولائی(فکروخبر/ذرائع)افغانستان کی حکومت نے طالبان تحریک کے روپوش سربراہ ملا محمد عمر کی موت کی تصدیق کردی ہے۔کابل کے صدارتی محل سے بدھ کی شب جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت مصدقہ معلومات کی بنیاد پر تصدیق کر رہی ہے کہ ملا عمر کی موت اپریل 2013ء میں پاکستان میں ہو گئی تھی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت سمجھتی ہے کہ طالبان کیسس سربراہ کی موت کے بعد افغانستان میں قیامِ امن کے لیے جاری بات چیت کے لیے فضا مزید ہموار ہوگئی ہے۔بیان میں حکومت مخالف تمام مسلح گروہوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس موقع کا فائدہ اٹھائیں اور امن عمل کا حصہ بنیں۔معاصر نشریاتی ادارے 'بی بی سی' نے بدھ کو افغان حکومت میں موجود ذرائع کے حوالے سے ملا محمد عمر کے انتقال کا دعویٰ کیا تھا۔نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ افغان حکام کو یقین ہے کہ ملا عمر دو یا تین سال قبل انتقال کرگیا تھا۔صدارتی محل سے جاری ہونے والے بیان سے قبل افغانستان کے 'نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی' کے ترجمان عبدالحسیب صدیقی نے کہا تھا کہ ملا عمر اپریل 2013ء میں پاکستان کے شہر کراچی کے ایک اسپتال میں دورانِ علاج انتقال کرگیا تھا۔ایک خبر رساں ادارے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا تھا کہ وہ اپنی سرکاری حیثیت میں افغان طالبان کے سربراہ کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق کر رہے ہیں۔طالبان رہنما کی ہلاکت کی خبروں پر امریکہ اور افغانستان کے پڑوسی ملک پاکستان کی جانب سے تاحال کوئی ردِ عمل سامنینہیں آیا ہے۔مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور افغان حکومت کا ایک عرصے تک یہ موقف رہا ہے کہ پاکستان کیخفیہ ادارے اور فوج ملا عمر سے رابطے میں ہیں اور انہوں نے طالبان رہنما کو پناہ دے رکھی ہے۔ایک خبر رساں ادارے نے پاکستان میں موجود افغان طالبان کے ایک رہنما کے حوالے سے کہا ہے کہ ملا محمد عمر کی موت طبعی تھی اور تحریک کی نئی قیادت کا انتخاب کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔افغان حکومت کے بیان سے قبل طالبان کے ایک ترجمان قاری یوسف احمدی نے مغربی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے ملا عمر کی ہلاکت کی اطلاعات کی تردید کی تھی۔طالبان کیا یک اور ترجمان نے 'وائس آف امریکہ' کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ملا محمد عمر زندہ ہے اور "تحریک کی قیادت" کر رہا ہے۔ملا محمد عمر 2001ء میں افغانستان پر امریکی حملے کیبعد سے روپوش تھا اور گزشتہ 15 برسوں میں کبھی منظرِ عام پر نہیں آیا۔طالبان رہنما کی ہلاکت کی خبریں اس سے قبل بھی مغربی ذرائع ابلاغ کی زینت بنتی رہی ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ اعلیٰ سرکاری ذرائع ان خبروں کی تصدیق کر رہے ہیں۔رواں ماہ عیدالفطر سے قبل ملاعمر سے منسوب ایک تحریری بیان منظرِ عام پر آیا تھا جس میں اْسنے نے افغانستان میں قیام امن کے لیے افغان حکومت سے بات چیت کے عمل کو جائز قرار دیا تھا۔افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد 1996ء میں ملا عمر کو ’امیر المومنین‘ کا خطاب دیا گیا تھا۔ملا عمر کی سربراہی میں افغانستان کے بیشتر علاقوں پر قائم ہونے والی طالبان حکومت 2001ء میں امریکہ کے افغانستان پر حملے کے نتیجے میں ختم ہوگئی تھی اور طالبان کی بیشتر اعلیٰ قیادت روپوش ہوگئی تھی۔امریکہ کی حکومت نے ملاعمر کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کر رکھی ہے۔ملاعمر کی ہلاکت سے متعلق تازہ خبر ایسے وقت سامنے آئی ہے جب افغان طالبان اور افغانستان کی حکومت کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور رواں ہفتے متوقع ہے۔پاکستان کی میزبانی میں پہلی مرتبہ جولائی کے اوائل میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان براہ راست ملاقات ہوئی تھی۔ اسلام آباد کے مضافات میں واقع سیاحتی مقام مری میں ہونے والی بات چیت میں امریکہ اور چین کے نمائندے بھی شریک تھے۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ملا عمر کی ہلاکت سے متعلق تازہ خبروں کے تناظر میں افغان طالبان کے باہمی اختلافات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی اطلاعات آتی رہی ہیں کہ امن مذاکرات پر افغان طالبان کے بعض رہنماؤں میں پہلے ہی اختلافات موجود ہیں۔


فرانسیسی وزیر خارجہ کی ایرانی صدر سے ملاقات

تہران۔ 30 جولائی (فکروخبر/ذرائع) فرانس کے وزیر خارجہ لارانٹ فابیوس نے ایرانی دارالحکومت میں ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کی ہے۔رپورٹ کے مطابق ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات میں بہتری سمیت تجارتی تعاون پر بات چیت کی گئی۔اس دوران فابیوس نے صدر فرانسوا اولاند کی جانب سے ایرانی صدر کو رواں برس نومبر میں فرانس کے دورے کی دعوت بھی دی ہے۔ فابیوس گزشتہ 12 برسوں میں ایران کا دورہ کرنے والے پہلے فرانیسی وزیر خارجہ ہیں،جبکہ روحانی اگر نومبر میں فرانس کا دورہ کرتے ہیں تو وہ گزشتہ 16 برسوں میں فرانس کا دورہ کرنے والے پہلے ایرانی رہنما ہوں گے۔ فرانس کا ایک اعلیٰ سطح کا تجارتی وفد ستمبر میں ایران کا دورہ کرے گا۔ فابیوس کے مطابق تجارتی وفد کے ایجنڈے میں کار سازی، زراعت اور ماحولیات جیسے شعبوں میں تعاون پر بات چیت شامل ہیں۔


سعودی عرب میں مسلح افراد کے حملے میں پولیس اہلکار ہلاک 

ریاض۔ 30 جولائی (فکروخبر/ذرائع) سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں دہشت گردانہ حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور دیگر 2 زخمی ہو گئے ہیں۔ سعودی وزارت داخلہ نے اِس حملے میں ہونے والے جانی نقصان کی تصدیق کر دی ہے۔ پولیس کے مطابق ضلع القطیف کے الجیش نامی گاؤں میں پولیس کی گشت کے دوران ہونے والے اس واقعے میں ملوث 2 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔واضح رہے کہ حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے۔